| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موبائل فون سے بچوں کو مزید خطرہ
انیس سو اٹھاسی سے بچوں کے خلاف جنسی جرائم اور فحاشی میں پندرہ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات برطانیہ میں بچوں کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم این سی ایچ کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف فحاشی میں اس قدر اضافہ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں بچوں کے خلاف فحاشی یا جنسی جرائم کے الزام میں پانچ سو اننچاس افراد پر فرد جرم عائد ہوئی جبکہ انیس سو اٹھاسی میں اس سلسلے میں صرف پینتیس افراد پر یہ الزام لگا۔ توقع ہے کہ برطانیہ میں پولیس کی ’اپریشن اور‘ نامی کارروائی کے سبب سن دو ہزار دو کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہونگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں برطانیہ کے سارھے چھ ہزار افراد پر الزامت عائد ہیس کہ انہوں نے کریّلا کارڈ کے ذریعے بچوں کی فحاش تصاویر فراہم کرنے والی ویبسائٹ استعمال کی تھی۔ این سی ایچ کے ترجمان اور اس رپورٹ کو ترتیب دینے والے جان کار نے بی بی سی ریڈیو فایؤ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’انٹنیٹ کے آنے سے پہلے بچوں کی فبرہنہ تصاویر حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن انٹرنیٹ نے یہ بالکل بدل دیا۔‘ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ موبائل فون سے ایسے جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان نئے موبائل فونوں میں نہ صرف کیمرا لگا ہوا ہے بلکہ انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں پولیس بچوں پر زیادتی کرنے اور انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کی برہنہ تصاویر نشر کرنے والے افراد کا پتہ ان کے کمپیوٹر کے ذریعے کر سکی تھی۔ لیکن موبائل فون کے مالکان کا پتہ لگانا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ اگر کوئی شخص پیسے دے کر فون خریدے اور ٹیلی فون کالوں کی رقم پہلے سے ادا کردے تو اس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے بچوں کے خلاف فحاشی کے ان ملزموں کا پتہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ بقول ان کے ’انٹرنیٹ کا سڑکوں پر نکل آنے سے ان ملزموں کو تلاش کرنا بہت مشکل ہوگا۔ گھروں میں انٹرنیٹ ہونے کا فائدہ یہ تھا کہ والدین بچوں کی انٹرنیٹ استعمال اور ای میل وغیرہ پر نظر رکھ سکتے تھے لیکن اگر بچے کسی جگہ سے بھی انٹرنیٹ پر جا سکیں تو یہ نگرانی نہیں ہو سکے گی۔ ‘ ان موبائل فونوں کو ’تھرڈ جینریشن‘ یا ’تھری جی‘ فونز کہا جا رہا ہے۔ اب تک برطانیہ کی صرف ایک موبائل فون کمپنی ’ہچِنسن تھری جی‘ یہ فون بیچ رہی ہے۔ ’ووڈافون‘ اور ’او ٹو‘ سمیت دیگر کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ این سی ایچ اور بچوں کے تحفظ کے لئے تنظیموں سے اس سلسلے میں مشاورت کر رہی ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں پہلے ہی موبائل فون پر فحاش تصاویر روکنے کے لئے ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان موبائل فون کمپنیوں نے والدین کے لئے آگہی کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||