’مجھ پر ہی فلم بنا دی جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی فلمی صنعت کو انڈر ورلڈ مافیا سے شکایت ہے تو پاکستان کی فلم انڈسٹری پر کلاشنکوف بردار پروڈیوسروں اور سرمایہ کاروں کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ان دنوں زیرِ نمائش فلم گڈو بادشاہ نے تو ایک نیا ہی ریکارڈ قائم کر دیاہے۔ یہ فلم حیرت انگیز طور پر صرف اٹھارہ دنوں میں مکمل کی گئی۔ اس فلم کے معاون فلمساز ملک شہباز کا کہنا ہے کہ یہ ان چند فلموں میں شامل ہے جن کی ویڈیو یا سی ڈی فلم بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ قتل و غارت گری سے بھری یہ فلم ایک زندہ کردار احمد نواز عرف گڈو بادشاہ پر بنائی گئی ہے۔ وہ اس فلم کے فنانسر بھی خود ہیں اور پروڈیوسر بھی خود ہی ہیں۔ پاکستانی فلمی صنعت میں نئے آنے والے سرمایہ کاروں اور فلم سازوں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اداکار انہیں شوٹنگ کے لیے وقت نہیں دیتے اور وعدہ کر کے بھی وقت پر نہیں پہنچتے لیکن حاجی گڈو کی فلم کے معاملے میں اس کے برعکس ہوا اور شان، صائمہ، معمر رانا، میرا، سعود، اور ریمبو سمیت فلم میں شریک تمام فنکاروں نے اپنی دیگر تمام شوٹنگ معطل کر کے ان کی فلم ریکارڈ وقت میں مکمل کرائی۔ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کہتے ہیں کہ ’یہ فلم اس لیے جلدی بن گئی کیونکہ اس کی ٹیم سے گن پوائنٹ پر کام لیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی شوٹنگ میں دن رات ایک کر دیا۔‘ حاجی گڈو اس کی موقف کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دراصل وہ تمام ان سے پیار ہی اتنا زیادہ کرتے ہیں کہ انہوں نے ساری ڈیٹیں(تاریخیں) ہی انہیں دے دیں۔‘ یہ فلم بنی اس طرح کہ چند ماہ پہلے لاہور میں ایک فلم ’ کرفیو آڈر‘ کی شوٹنگ کے دوران نواز احمد عرف حاجی گڈو کا معمر رانا اور اداکارہ نور سے جھگڑا ہوا۔ دونوں فنکاروں سے خاصی بدتمیزی کی گئی، ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔
اس پر فلمی صنعت کے لوگوں نے احتجاج کے طور پر ہڑتال کر دی۔ چودہ روز کی ہڑتال حاجی گڈو سے صلح کے بعد ختم ہوئی لیکن حاجی گڈو نے یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور خود بھی ایک فلم بنانے کی خواہش کی جس کی فلمی صنعت کے لوگوں نے حامی بھر لی۔ حاجی گڈو سے جب پوچھا گیا کہ کس کہانی پر فلم بنائی جائے تو وہ حاجی گڈو نے بتایا کہ انہیں فوری طور پر کچھ نہ سوجھا اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ’مجھ پر ہی فلم بنا دی جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ ان کی زندگی کی اصل کہانی ہے۔‘ حاجی گڈو مرحوم فلم ساز کالو شاہ پوریا کے کزن ہیں۔ کالو شاہ پوریا دو درجن سے زائد افراد کے قتل میں ملوث اور سزا یافتہ تھے۔ قتل میں ملوث کسی شخص کی زندگی پر بننے والی یہ پہلی فلم نہیں ہے بلکہ تین سال کے دوران پاکستان میں پچاس فلمیں ریکارڈ کے مطابق پیشہ ور قاتلوں اور بدمعاشوں پر بن چکی ہیں جن میں متعدد ایسے تھے جو پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوگئے تھے البتہ فلموں میں انہیں ہیرو کے روپ میں دکھایا جاتا رہا ہے۔ عابد چودھری، عاطف چودھری، کالو شاہ پوریا اور ہمایوں گجر وغیرہ اسی کی مثال ہیں۔ ایک طرف یہ فلمیں بن رہی ہیں تو دوسری طرف پیشہ ور فلمساز اور ہدایتکار ان رجحانات سے تنگ نظر آ رہے ہیں۔ وہ فلموں میں مافیا کلچر کے خلاف ہیں۔ جمشید ظفر نے سو سے زیادہ فلمیں بنائی ہیں اور کرفیو آڈر ان ہی کی فلم تھی جس پر حاجی گڈو کی لڑائی ہوئی تھی۔ جمشید ظفر کہتے ہیں فلمی صنعت کو اس حال تک پہنچانے میں کلاشنکوف بردار مافیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اداکار ان سے جلد سے جلد جان چھڑانے کے لیے ان کی فلم کی شوٹنگز جلدی سے جلدی کروا دیتے ہیں اور ان کی مختصر عرصہ میں مکمل ہونے والی فلم منافع دے جاتی ہے اور حقیقی فلم ساز کی فلم ایک ایک سال لٹکے رہنے کے بعد بنتی ہے۔ یوں اس کا بجٹ بڑھ جاتا ہے اور فلم اخراجا ت بھی پورے نہیں کر پاتی۔‘ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری ایک بحران کا شکار ہے۔ فلمیں دھڑا دھڑ فلاپ ہو رہی ہیں۔ فلم سازی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ فلمساز اور فنانسر سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔ اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں صرف انیس فلمیں مکمل ہو پائی ہیں جو ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ فلمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں بدمعاشوں پر فلمیں بنانے والے یہ لوگ بھی انڈسٹری سے اپنا سرمایہ نکال لیں گے تو فلمی صنعت کے بیٹھ جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں امجد فرزند علی کہتے ہیں اگر ایسے افراد کو شروع میں ہی روک لیا جاتا تو بہتر تھا تاہم اب ان کی موجودگی فلمی صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم سنسر بورڈ نے نئی پالیسی بنائی ہے جس کے مطابق کوئی فلم نہ تو ذات برادری پر بنائی جائے گی اور نہ کسی بدمعاش کے نام پر فلم کا نام رکھا جائےگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے فلمساز و سرمایہ کار اب اچھے کردار کا مظاہرہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||