BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2003, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
براستہ بالی وڈ

نئی پاکستانی فلم کا منظر
لالی وڈ کا تکنیکی معیار پہلے سے بہتر ہے

پاکستان میں کم ہی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی پاکستانی فلموں کی کامیابی کے پیچھے بھارتی فلمی صنعت یا بالی وڈ کا بہت بڑا کردار ہے۔

کئی پاکستانی فلمیں مثال کے طور پر ’یہ دل آپ کا ہوا‘، ’گھر کب آؤ گے‘، ’چلو عشق لڑائیں‘ وغیرہ جب منظر عام پر آئیں تو شائقین کو یہ دوسری پاکستانی فلموں کے مقابلے میں مختلف اور بہتر نظر آئیں۔

شائقین کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ ان فلموں کے بہتر ہونے کی وجہ آخر کیا ہے؟

دراصل گزشتہ چار پانچ برس سے پاکستانی فلمساز بھارتی فلمی صنعت کی تکنیکی مدد سے فلمیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ تکنیکی تعاون بنیادی طور پر فلموں کی سٹیریو ریکارڈنگ، ڈیجیٹل ساؤنڈ ریکارڈنگ اور فلم پروسیسنگ کے سلسلے میں حاصل کیا جاتا ہے۔

سید نور، جاوید شیخ، فہیم برنی اور شہزاد گل ان چند پاکستانی فلمسازوں میں سے ہیں جو نہ صرف موضوع بلکہ فلمسازی کے تمام پہلوؤں کے حوالے سے اچھی اور معیاری فلمیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کوشش کے سلسلے میں یہ فلمساز بالی وڈ کی تکنیکی مہارت سے استفادہ کر رہے ہیں۔

 بالی وڈ کے ماہرین کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اب تک بہت اچھا رہا ہے۔ بھارتی فلمی صنعت کے لوگ انتہائی پیشہ ور اور تربیت یافتہ ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے سے ہمارے لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

شہزاد گل

اب تک جو فلم بھی بالی وڈ کے تکنیکی تعاون سے تیار کی گئی وہ پاکستان میں کامیاب ثابت ہوئی۔ ان فلموں میں ’تیرے پیار میں‘، ’شعلے‘، ’پیار ہی پیار‘، ’چلو عشق لڑائیں‘ اور ’یہ دل آپ کا ہوا‘ شامل ہیں۔

فلمساز اور ایورنیو سٹوڈیوز کے مالک شہزاد گل کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلمسازوں کو بھارت میں کام کروانا باقیدنیا کے مقابلے میں نہ صرف سستا پڑتا ہے بلکہ آسان بھی ہے کیونکہ وہ لوگ تہذیبی اور معاشرتی اعتبار سے پاکستانیوں جیسے ہی ہیں۔

شہزاد گل کی فلم ’گھر کب آؤ گے‘ جو سن دوہزار میں منظرعام پر آئی، پہلی پاکستانی فلم تھی جو ڈولبی سٹیریو سسٹم پر تیار ہوئی۔ دوسری فلم ’چلو عشق لڑائیں‘ ڈی۔ٹی۔ایس پر تیار ہونے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔ ان دونوں فلموں کے لیے یہ سہولیات بھارت میں حاصل کی گئیں۔

شہزاد گل کا کہنا ہے کہ بالی وڈ کے ماہرین کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اب تک بہت اچھا رہا ہے۔ ان کے بقول بھارتی فلمی صنعت کے لوگ انتہائی پیشہ ور اور تربیت یافتہ ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے سے ہمارے لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

شہزاد گل نے کہا کہ اب تک مجموعی طور پر بالی وڈ کے تعاون سے سال میں ایک فلم تیار کی جا رہی ہے لیکن اگر دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر ہو جائیں اور آزاد تجارت شروع ہو جائے تو ان فلموں کی تعداد خاصی بڑھ سکتی ہے۔

اس طرح پاکستانی شائقین کو بڑی تعداد میں معیاری فلمیں دیکھنےکو مل سکتی ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فلمی صنعت کے پاس صرف آپٹیکل کیمرے ہیں جنہیں سٹیریو کیمرے میں تبدیل کرنے میں تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کو کوئی تیار نہیں کیونکہ اس رقم کی واپسی میں تقریباً دس برس لگ سکتے ہیں۔ لہذا پاکستانی فلمساز سٹیریو کیمرے کی سہولت بالی وڈ سے حاصل کر لیتے ہیں جو سستا بھی پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فلم میں سرمایہ کے لحاظ سے اتنی گہرائی موجود نہیں ہے اس وجہ سے بالی وڈ کی تکنیکی مہارت کو کرائے پر حاصل کرنا زیادہ مناسب ہے۔

شہزاد گل نے کہا کہ بالی وڈ میں کام کرنے کے معاشی پہلو سے قطع نظر یہ میل ملاپ ہمیں وہاں کے لوگوں سے سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

ان کے خیال میں پاکستانی فلمی صنعت کے لوگوں کو بھارت میں کم از کم چھ ماہ کی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ اس طرح پاکستان کے فلمسازی کے معیار میں خاصی بہتری آئے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد