سٹارز شوز کی دوڑ میں کون آگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل تک کسی پاکستانی نوجوان کے لیے اپنے من پسند بالی وڈ ستاروں سے ملنا ایک خواب تھا۔ تاہم پچھلے چھ ماہ میں یہ خواب درجنوں بار پاکستانیوں کے لیے حقیقت بن گیا۔ فلم کے دیوانوں کا یہ خواب ارمیلا، اکشےکمار، شلپا شیٹھی ، جگجیت سنگھ، سونو نغم اور اب سیف علی خان، شسمیتا سین اور ایم ٹی وی کی مشہور وی جے ملائکہ اڑوڑہ کی ملک میں آمد سے پورا ہو چکا ہے۔ بھارتی ستاروں نے دونوں ملکوں کے درمیان کم ہونے والی کشیدگی کا خوب فائدہ اٹھایا ہے اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ پہلے پہل پاکستانی مبصرین نے بھی بھارتی ستاروں کی پاکستان آمد کو بہت ہی خوش آئند قرار دیا لیکن وقت کے ساتھ یہ احساس ہونے لگا کہ یہ دورے یکطرفہ ہیں۔ سوائے اکا دکا پاکستانی فنکاروں کے پاکستان سے کوئی بھی ثقافتی طائفہ انڈیا نہ گیا۔ پاکستان فلمی ناقد نوید رشید نے اس ثقافتی تبادلے کوگو مثبت قرار دیا ہے مگر اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی ستاروں نے پاکستانی ستاروں کی چمک ماند کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی فلموں کی پاکستان میں مقبولیت نے بھارتی ستاروں کے شوز کو بے انتہا کامیاب بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی آرگنائزر نے پاکستانی فنکار میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ بھارتی فلمی مبصرین سرفراز آرزو اس نظریے سے متفق نہیں ہیں کہ بھارتی ستاروں نے میلہ لوٹ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاکستانی فنکار جن میں مہدی حسن، غلام علی، عابدہ پروین، عمر شریف، جنون اور اسٹرنگز شامل ہیں، ان کی بہت مانگ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برعکس بھارت میں پاکستانی فلمی اداکاروں کی اتنی مانگ نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی پاکستانی اداکاروں کے شوز کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پاکستانی مبصر سیف اللہ سیرا کا کہنا ہے کہ کہ اب تک بھارتی فنکار اپنے شوز سے تقریباً پونے دو کروڑ روپے کما کر واپس جا چکے ہیں۔ جبکہ پاکستانی اداکاروں معمر رانا اور ریما کے سوا کسی بھی پاکستانی اداکار کو بھارت آنے کی دعوت نہیں دی گئی اور نہ ہی وہاں کوئی پاکستانی اداکاروں کے لیے شوز منعقد کیے گئے۔ مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ بھارتی ستاروں کے کامیاب دور کی وجہ ان کے مہنگے ٹکٹ ہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان ٹکٹوں کی قیمت مزید دوروں کے ساتھ کم ہوتی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||