سینما مالکان: انڈین فلمیں ورنہ ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینما مالکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت نہ دی تو صوبہ بھر کے سینما گھر گیارہ جون سے ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان فلم ایگزیبٹرز ایسوسی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جو لاہور کے پلازہ سینما میں منعقد ہوا۔ اس فیصلے کی توثیق سات جون کو لاہور کےنغمہ سینما میں منعقد ہونے والے جنرل باڈی کے اجلاس میں کی جائے گی۔ اس بات کا اعلان پاکستان فلم ایگزبیٹرز ایسوسی ایشن کی ایکشن کمیٹی کے چیرمین زوریز لاشاری نے اجلاس کے اختتام پرکیا- انہوں نے کہا کہ جنرل باڈی کے اجلاس میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کے تمام سینما مالکان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں باقاعدہ منظوری لی جائے گی کہ دونوں صوبوں میں تمام سینما گھر گیارہ سے سترہ جون تک بند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ فلم ایگزبیٹرز ایسوسی ایشن کے چیرمین ریاض ملک سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ سندھ جنرل باڈی کا اجلاس بلا کر ہڑتال کی منظوری لیں- زوریز لاشاری نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ اگر سینما انڈسٹری کو بچانا ہے تو فوری طور پر پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دی جائے۔ غیر قانونی فلموں کا کاروبار روکنے کے لیے کیبل والوں کے خلاف آپریشن کیا جائے۔ پنجاب میں تفریحی ٹیکس بالکل ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سینما انڈسٹری بحران کا شکار ہے اور ہم حکومت کی توجہ اس بحران کی طرف بار بار دلا چکے ہیں مگر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے حکومت کو اس انڈسٹری کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے- ’ہم مایوس ہو چکے ہیں اور ہڑتال کا فیصلہ بھی ہم نے مایوسی کے عالم میں کیا ہے‘- انہوں نے کہا کہ فلمسازی کا کام عملاً رک چکا ہے اور کوئی پروڈیوسر فلم بنانے کو تیار نہیں- ان حالات میں بھارتی فلمیں ہی بحران ختم کر سکتی ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||