BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 May, 2004, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش؟

شاہ رخ خان اور ایشوریہ
کیا ہندوستانی فلمیں پاکستانی سنیما گھروں کی رونقیں بحال کر سکیں گی؟
پاکستان کی سنیما اندسٹری اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔

ایک طرف تو ہڑتال کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ بہت جلد یہاں پر انڈین فلمیں چلنا شروع ہو جائے گی۔

گزشتہ روز تین بڑی فلمی تنظیموں، پاکستان فلم پروڈیوسرزایسوسی ایشن اور پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فلم ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

میاں امجد فرزند کوفلم ایکشن کمیٹی کا چیئرمین جبکہ ہدایت کار سید نور کو وائس چیئرمین اور شوکت زمان کو چیف کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا۔

ایکشن کمیٹی کے تیرہ اراکان میں سلیم سرور، زوریز لاشاری، سجاد گل، جمشید ظفر، اداکار شان اور طارق شاہ شامل ہیں۔

News image
لاہور کے سنیما گھروں میں حکومت سے اپیل کے بورڈ لگائے گئے ہیں
اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلم ایکشن کمیٹی کے چیئرمین میاں امجد فرزند نے کہا کہ فلم انڈسٹری روز بروز زوال کی طرف جا رہی ہے، سنیما گھر تیزی سے گر رہے ہیں اور ان کی جگہ شاپنگ پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلم بینوں کو سنیما گھروں تک لانےکا واحد طریقہ یہی ہے کہ یہاں پر بھارتی فلموں کی نمائش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان میں نو سو ستر سینما گھر تھے اب صرف دو سو ستر رہ گئے ہیں-

’حال ہی میں فیصل آباد کا نگینہ سینما گرا دیا گیا، لاہور میں ریگل پلازہ مبارک سمیت کئی سنیما بند پڑے ہیں-‘

اس موقع پر شان نے کہا کہ ایک ایک کر کےٹیلنٹ بھارت جا رہا ہے اور بہتر یہی ہے کہ بھارت کے ساتھ فلمی کاروبار شروع کیا جائے اس میں پاکستان کا زیادہ فائدہ ہے-

صائمہ
چوڑیاں اور لڑکی پنجابن جیسی فلموں کی مشرقی پنجاب میں مارکیٹ ہے
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ فلمی کاروبار کی صورت میں لالی وڈ میں بننے والی پنجابی فلموں کو بھارتی پنجاب کی ایک بڑی مارکیٹ مل جائےگی۔

جمشید ظفر نے کہا کہ بھارتی فلم انڈسٹری ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت ایڈوانس ہے جس کی وجہ سے ہمیں تکنیکی مدد ملے گی-

فلم ایکشن کمیٹی کے چیف کوارڈینیٹر شوکت زمان نے کہا کچھ فلمی حلقوں میں ہڑتال کی باتیں ہو رہی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں سنیما کی ہڑتال نہیں ہوگی۔

فلم ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شوکت زمان نے کہا کہ کمیٹی کے عہدیدار عنقریب اعلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور انہیں سنیما انڈسٹری کے مسائل سے آگاہ کریں گے۔

یاد رہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب پاکستان کے کئی سنیما گھروں پر ’سنیما گھروں کو بچانے کی اپیلوں پر مبنی بڑے بڑے بورڑ لگا دیئے گئے ہیں اور فلمی حلقوں میں ممکنہ ہڑتال کے بارے میں افواہیں مسلسل گردش کر رہی ہیں۔

پچھلے دنوں لاہور میں فلم کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں فلم انڈسٹری کے بحران پر بڑی لمبی چوڑی تقریریں ہوئیں- اس موقع پر کراچی کے ایک بزرگ تقسیم کار اور سنیما کے مالک نواب حضورالحسن نے کہاکہ فلم انڈسٹری کے بحران کی ایک ہی وجہ ہے کہ اچھی فلمیں نہیں بن رہیں- جب تک اچھی فلمیں نہیں بنیں گی بحران اسی طرح رہے گا۔

پاکستانی سنیما میں بھارتی فلموں کے بارے میں کچھ فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ بہت جلد یہاں پر انڈین فلمیں چلنا شروع ہو جائے گی ان کا خیال ہے کہ حکومت نے فلمی تنظیموں کو اس سلسلے میں گرین سگنل دے دیا ہے-

یہ امر قابل ذکر ہے کہ فلم ایکشن کمیٹی پاکستان فلم انڈسٹری کے بحران کا حل پاکستانی سنیما میں بھا رتی فلموں کی نمائش میں ڈھونڈھ رہی ہے- اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارتی فلموں کی نمائش سے سنیما گھروں کی رونقیں لوٹ آئیں گی؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد