| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالکان پرانی فلمیں چلانے پر مجبور
سن دو ہزار تین کے دوران انتہائی کم تعداد میں فلموں کی ریلیز کے بعد مالکان اپنے سنیما گھروں پر پرانی فلمیں لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران اردو کی انیس اور پنجابی کی چودہ فلمیں ریلیز ہوئیں جبکہ صرف چند سال پہلے تک پاکستان میں اردو اور پنجابی کی پچاس پچاس فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جاتی تھیں۔ فلمی صنعت سے منسلک کئی افراد کا تو یہ تک کہنا ہے کہ فلموں یہ قلیل تعداد بھی پاکستانی فلمی صنعت کو درپیش بحران کی صحیح عکاسی نہیں کرتی کیونکہ ریلیز ہونے والی فلموں میں سے بھی کئی ایسی تھیں جو کئی سال سے زیر تکمیل رہنے کے بعد سنیما گھروں کی زینت بن سکیں۔ رواں ہفتے کے دوران لاہور کے دو اہم سنیما گھروں پر ماضی کی دو کامیاب فلمیں ’بازار حسن‘ اور ’مہندی والے ہتھ‘ کو نمائش کے لئے پیش کیا گیا لیکن اپنے اعلیٰ معیار کے باوجود یہ فلمیں فلم بینوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ مشہور پنجابی فلم ’مولا جٹ‘ بنانے والے ادارے باہو فلمز کارپوریشن کی فلم ’بازار حسن‘ کو پہلی بار نو ستمبر سن انیس سو اٹھاسی کو نمائش کے کئے پیش کیا گیا تھا۔
کئی قومی ایوارڈز حاصل کرنے والی اس اردو فلم کے فلمساز محمد سرور بھٹی ہیں اور ہدایات محمد جاوید فاضل نے دی ہیں جبکہ ستاروں میں سلمیٰ آغا، ندیم، ثمینہ پیرزادہ اور جہانزیب شامل ہیں۔ انتہائی اچھی کہانی اور دلفریب موسیقی کے باوجود ’بازار حسن‘ فلموں ببینوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور خدشہ یہ ہے کہ شاید اس کی نمائش ایک ہفتے سے زیادہ جاری نہ رہ سکے۔ رواں ہفتے کے دوران نمائش کے لئے پیش کی جانے والی دوسری فلم شاہ پروڈکشنز کی ’مہندی والے ہتھ‘ ہے۔ صائمہ اور معمر رانا جیسے ستاروں سے مزین فلمساز اور ہدایت کار سید نور کی اس مقابلتاً نئی فلم کا انجام ’بازار حسن‘ سے بھی بُرا ہوا اور سنیما مالکان نے دوسرے شو کے بعد ہی اس کی نمائش بند کر دی۔ فلمی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی پرانی فلموں میں سے کمال فلمز کی فلم ’شیرخان‘ اور باہو فلمز کی ’چن وریام‘ کے علاوہ کوئی فلم شائقین کو متاثر نہیں کر سکی۔ ’شیر خان‘ اور ’چن وریام‘ پنجابی فلم کے عروج کے زمانے کی یادگاریں ہیں اور دونوں ہی فلم ’مولاجٹ‘ کی بے مثال کامیابی کے دو سال بعد ہی سن انیس سو اکیاسی میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھیں۔ پاکستانی فلمی ناقدین کے مطابق ان فلموں کی کامیابی ان کی کہانی، اداکاری اور دیگر فنی محاسن سے زیادہ اس کی موسیقی کی مرہون منت ہے۔ فلم ’شیر خان‘ اور ’چن وریام‘ کے لئے گائے ہوئے میڈم نورجہان کے گانے ’جھانجریا پہنا دو‘، ’میں وی بدنام سیاں تو وی بدنام وے‘، میں چڑھی چبارے عشق دے‘، ’تو ایں ماہی چھیلہ تے میں میں آں تیری لیلیٰ‘، ’توں جے میرے ہمیشہ کول روہیں میں دنیا نوں کہہ دیاں پرے پرے‘، ’وے سونے دیا کنگناں‘، ’رملی وے رملی پچھدی اے کملی‘ اور ’سُن سُن سُن بھابی ڈھول پیا وجدا‘ آج بھی موسیقی کے شائقین کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||