BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 January, 2004, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی صنعت کو سلطان راہی ثانی کی تلاش

سلطان راہی
سلطان راہی نے ایک ایکسٹرا کی حیثیت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا

’سر جی آپ نے میرا چہرہ ایکسپوز نہیں کیا ‘

یہ الفاظ ایک فلم میں بطور ایکسٹرا کام کرنے والے نوجوان نے ایک کیمرہ مین کو رندھی ہوئی آواز میں کہے تھے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنیئر کیمرہ مین ارشاد احمد کا کہنا ہے کہ یہ انیس سو چھپن کی بات ہے انہیں فلم کے باغی کے ہدایت کار نے کہا تھا کہ تمام ایکسٹرا کے چہرے ایکسپوز کر لو۔

انہوں نے تمام کے چہرے ایکسپوز کیے لیکن ایک نوجوان محمد سلطان کا چہرہ اس لیے ایکسپوز نہیں کیا کہ انہیں اس کے کرخت چہرے میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی تھی کہ اس پر فلم ضائع کی جاتی۔

لیکن ان کے آنسو دیکھ کر ہدایت کار نےانہیں اسی فلم میں ایک معمولی اور غیر اہم کردار دیدیا جو پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ سلطان راہی کی فلمی زندگی کا آغازثابت ہوا۔

کیمرہ مین کہتے ہیں کہ وہ ان کی غلطی تھی لیکن نوجوان سلطان کے آنسوؤں نے ان سے اس کی غلطی کی اصلاح کرا دی تھی۔

مولا جٹ
مولا جٹ کا گنڈاسا اس قدر کامیابی سے چلا کہ اسی نوعیت کی درجنوں فلمیں بنیں اور بیشتر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں

اس کے بعد سے انہوں نے بے شمار بے جان اور غیر اہم کردار کیے اور اپنے قد میں اضافہ کرتے چلے گئے۔

انیس سو اکہتر میں انہیں ایک فلم بابل میں اہم کردار ملا تاہم اکتیس جولائی انیس سو اکہتر کو ریلیز ہونے والی فلم ’بشیرا‘ نے انہیں سٹار سے سپر سٹار بنا دیا۔

انہوں نے کئی سپر ہٹ فلمیں دیں جن میں سب سے کامیاب ’مولا جٹ‘ تھی۔مولا جٹ کا گنڈاسا اس قدر کامیابی سے چلا کہ اسی نوعیت کی درجنوں فلمیں بنیں اور بیشتر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں ۔

ان کی کامیاب فلموں میں’وحشی گجر‘، ’آخری جنگ‘، ’شیر خان‘، ’سانجھی ہتھکڑی‘، ’دوبیگھہ زمین‘، ’ان داتا‘، ’جرنیل سنگھ‘، ’شیراں دے پتر شیر‘، ’آخری میدان‘،اور ’سخی بادشاہ‘ شامل ہیں۔

جب ایک طرف فلم بین حلقے ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے بجا رہے تھے تو دوسری طرف دو جمع دوکرنے والے فلمی دنیا کے بعض ناقدین یہ بھی کہہ رہے تھے وہ بد شکل ہے،وہ بوڑھا ہے، وہ ان پڑھ ہے، وہ ایک ہی لہجے اور ایک ہی سٹائل میں اداکاری کرتا ہے (حتی کے رومانوی گانوں کے دوران بھی اس کا سٹائل ایسا ہوتا ہے جیسے وہ ابھی ’بڑھک‘ لگا دے گا)۔

لیکن اس ان تمام حقائق کےباوجود وہ پنجابی فلموں کا کامیاب ترین اداکار ثابت ہوئے حتیٰ کہ پنجابی فلمیں سلطان راہی کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی تھیں ۔

معروف کہانی نویس ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچیس سال تک صرف ایس فلمیں لکھیں جو ایک جملے ’میں تینوں چھڈاں گا نئیں‘(میں تجھے چھوڑوں گا نہیں) کے ارد گرد گھومتی تھیں اور اس کی وجہ یہ تھی سلطان راہی نے اپنی ہر فلم میں یہ ایک جملہ ضرور کہنا ہوتا تھا۔

انہوں نے سات سو کے قریب فلموں میں کام کیا۔ان کی موت کے بعد پنجابی فلموں پر زوال آیا ۔ یکے بعد دیگرے کئی فلمیں فلاپ ہوئیں فلموں کے سٹائل کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اور کئی لوگوں کو سلطان راہی ثانی بنانے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ’ کسی کے بھی جانے سے دنیا تھم نہیں جاتی‘۔

اس لیے بالآخر فلمی دنیا نے اردو فلموں کے ایک رومانوی ہیرو شان کو لمبا کرتا اور لاچا پہنا کر اور ہاتھ میں کلاشنکوف پکڑا کر سلطان راہی کا متبادل بنا ہی دیا۔

سلطان راہی جس طرح کے کردار ادا کیا کرتے تھے وہ اب اداکار شان کر رہے ہیں مبصرین کا کہنا ہے ان کے باعث اب ایک بار پھرپنجابی فلمی صنعت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ پنجابی فارمولا فلم کم از کم اپنی لاگت پوری کر ہی جاتی ہے۔ لیکن متبادل اصل نہیں ہوتا سلطان راہی کی کمی پھر بھی محسوس ہوتی رہے گی ۔

پنجابی فلموں کی سب سے بڑے فلمی ہیرو ،سلطان راہی انیس سو اڑتیس میں بھارت کے شہر سہارنپور(یو پی ) میں پیدا ہوئے تھے اور پاکستان بننے کے فوری بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئے تھے۔

میٹرک کے بعد ان کا شوق انہیں لاہور کھینچ لایا تھا۔ لیکن اب سلطان راہی کو اس دنیا سے رخصت ہوۓ آٹھ سال گزر گئے ہیں۔ جمعہ کو ان کے صاحبزادے حیدر سلطان کے گھر ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی۔

نو جنوری انیس سو چھیانوےمیں گوجرانوالہ کے نزدیک ان کی کار پنکچر ہوگئی اس دوران انہیں مبینہ طور پر ڈکیتی کی ایک واردات میں منہ میں فائر کرکے ہلاک کر دیا گیاتھا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کی وجہ یہ تھی کہ وہ معاشرے کے ایک ایسے فرد کا کردار ادا کرتے تھے جو بدصورت تھا، محرومیوں اور ظلم کے ردعمل میں غنڈہ بدمعاش بن کر انتہائی پر تشدد طریقہ سے معاشرے کے زور آوروں کوخوفناک طریقہ سے ہلاک کرتا تھا جوشائد عام پنجابی فلم بین طبقہ کے لیے کتھارسس کا سبب بنتا تھا۔

تنقید نگار کہتے ہیں کہ پنجاب میں تشدد کی راہ اختیار کرنے والوں کے بھی وہ آئیڈیل تھے۔

ان کا اصل حلیہ فلمی دنیا کے پر تشدد ہیرو سے بے حد مختلف تھا۔ گھنگھریالے بالوں کی وگ اتار کر اور سادہ کپڑے پہن کر میٹھے لہجے میں بات کرنے والے ’آغا جی‘ کو بطور سلطان راہی پہچاننا عام آدمی کے لیے مشکل تھا ۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ ممکن ہے ڈاکوؤں انہیں بالکل ہی نہ پہچان سکے ہوں یا دیر سے پہچانے تو خوفزدہ ہو کر ان پر فائر کر دیا۔

بہر حال پہچانے جانے کی ایک غلطی کی تو سلطان راہی کے آنسوؤں کے باعث اصلاح ہوگئی تھی اور پنجابی فلموں کو ایک لازوال ہیرو ملا لیکن چالیس سال بعد شائد پہچانے جانے کی دوسری غلطی کی اصلاح ہزاروں فلم بینوں کے آنسو بھی نہیں کرا سکےاس ناقابل اصلاح غلطی نے فلمی دنیا کو ایک کر شماتی فلمی شخصیت ’لیجنڈ‘ سے محروم کردیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد