| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیرت کے نام پر قتل پر پاکستانی فلم
پاکستان کی فلمی صنعت کے ایک گروپ نے’جرگہ‘ کے نام سے ایک اردو فلم بنانے کا اعلان کیا ہے جسے انہوں نے پاکستان بھارت اور برطانیہ کی مشترکہ پیش کش قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس فلم کا انگریزی میں نام ’ آنر کلنگ‘ یعنی’غیرت کے نام پر قتل‘ رکھا ہے۔ ’لڑکی پنجابن ‘ کی طرح اس فلم کو بھی پہلے برطانیہ میں ریلیز کیا جاۓ گا جس کے بعد اسے پاکستان اور بھارت میں ریلیز کر دیا جاۓ گا۔ پیراگون پکچرز انٹر نیشنل کے مالک و فلم سازافضل ایم خان ،عبدالحفیظ ایگزیکٹو پروڈیوسر محمد بلال سہو اور معروف مصنف مرزا ادیب نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ اس فلم کی شوٹنگ بھارت، پاکستان اور برطانیہ میں کی جاۓگی اور اس میں مرکزی کرداروں کے لیے بھارت اور پاکستان سے نئے چہرے تلاش کیے جائیں گے جبکہ دیگر کردار پاکستانی فنکار ادا کریں گے۔ انہوں نے بتایاکہ اس فلم کی ہدایت کاری کے فرائض بھارت کے ششی لال نائر ادا کریں گے جو اس سے قبل بھارتی فلمیں ایک چھوٹی سی لو سٹوری ، ون ٹو کا فور، فلک، انگار اور گرہن بنا چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس فلم کا میوزک سو فی صد بھارتی ہوگا اس کے لیے بھارتی موسیقار آنند سبرامنیم اور بھارت کے ہی شاعر توفیق کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ بھارتی ٹیم آئندہ چند روز تک پاکستان آ رہی ہے ۔ مصنف مرزا ادیب نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی ابھی لکھی جا رہی ہے تاہم یہ کہانی ’عزت کے نام پر قتل‘ کے موضوع کے ارد گرد گھومتی ہے تاہم انہوں نے کہا ’یہ کسی پاکستانی قبائلی علاقہ کے رسم و رواج کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہونے والے غیرت کے نام پر قتل کے ہر واقعے سے ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فلم نوے سے سو منٹ دورانیے کی ہوگی اور اس کی لاگت پانچ کروڑ سے پچیس کروڑ تک ہو سکتی ہے۔ سارک کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ہی مشترکہ فلم سازی اور اس شعبہ میں تعاون کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔ بھارتی فلمی صحافیوں اور فنکاروں کے ایک گروپ نے حال ہی میں لاہور کے فلم سٹوڈیوز کا دورہ کیا ہے ۔ بھارتی فلم سٹار ارمیلا اور پوجا بھٹ ڈائریکٹر مہیش بھٹ کی پاکستان آ مد کو دونوں ملکوں کے میڈیا نے خصوصی کوریج دی تھی ۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت میں ایسی فلمیں بن چکی ہیں جن میں دونوں ملکوں کے فنکاروں نے حصہ لیا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتیں جس تیزی سے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی اس کے پیش نظر توقع ہے کہ فلمی صنعت میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کے معاملات اسی تیزی سے آگے بڑھیں گے اور معاملہ ماضی کے تعاون سے بھی آگے جاسکتا ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||