BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2003, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑکی پنجابن نے لاج رکھ لی

لڑکی پنجابن
پاکستان میں فلمی حلقوں نے لڑکی پنجابن سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں

سال دو ہزار تین بھی پاکستان فلم انڈسٹری کے حالات نہیں بدل سکا۔وہ انڈسٹری جو چند برس قبل سالانہ کروڑوں روپے کا منافع کما رہی تھی اب کروڑوں روپے کے خسارے میں جا رہی ہے۔

انیس سوپچاسی سے لیکر انیس سوپچانوے تک کا عرصہ فلم انڈسٹری کے لحاظ سے بہترین دور تھا۔اس عرصہ میں ’ہاتھی میرے ساتھی ‘،’جیوا‘،’منڈا بگڑا جاۓ‘،’مس استنبول‘، لو 95‘،’ہم تو چلے سسرال ‘،اور’ ہوائیں ‘ جیسی سپر ہٹ فلمیں ریلیز ہوئیں ۔

انیس سو ستانوے سے پاکستان فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہوگیا اور وہ انڈسٹری جس میں اردو اور پنجابی کی سالانہ سو سواسو کے قریب فلمیں ریلیز ہوتی تھیں اب بمشکل تیس سی چالیس فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔

سال دو ہزار تین میں اردو اور پنجابی کی کل بتیس فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں کوئی بھی فلم سپر ہٹ نہیں ہو سکی ۔پورے سال میں صرف تین چار فلموں نے کچھ بزنس کیا جبکہ باقی فلاپ ہوئیں۔

ریما
ریما کی فلم شرارت سال دو ہزار تین میں ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جو ناکام رہی

اس سال کی پہلی فلم ہدایت کارہ ثمینہ پیرزادہ کی ’شرارت ‘تھی جو بری طرح ناکام ہوئی ۔اس سال ٹی وی کے معروف پروڈیوسر رؤف خالد نے ’لاج ‘ فلم بنا کر بڑی سکرین کا تجربہ کیا جو بری طرح ناکام رہا ۔

عیدالفطر پر صرف چار فلمیں کمانڈو ‘’قیامت‘پیدل لاہوریا ‘اور لاہوری ٹھگ ریلیز ہوئیں جن میں سے صرف دو فلمیں کمانڈو اور پیدل لاہوریا نے بزنس کیا اور دیگر دو فلاپ ہوگئیں ۔

سال کی آخری فلم لڑکی پنجابن، جو پچیس دسمبر کو پاکستان میں ریلیز ہوئی، فلم بینوں نے پسند کی ہے۔

اس فلم کی پاکستان میں ریلیز کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے لیکن اب تک اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔

لاہور کے میٹروپول سنیما گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک لڑکی پنجابن کی نمائش کی وجہ سے ایک طویل عرصہ بعد سنیما گھروں میں گہما گہمی نظر آئی ہے۔

یہ فلم لاہور کے دو سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے۔ پاکستان سے قبل یہ فلم برطانیہ میں ریلیز کی گئی تھی اور اطلاعات کے مطابق اسے وہاں اچھا رسپانس نہیں ملا تھا۔

پیار ہی پیار میں
گزشتہ سال فہیم برنی کی فلم پیار ہی پیار کی ناکامی پر شروع ہونے والا سلسلہ 2003 میں بھی جاری رہا

فلمی حلقوں نے اس فلم کے ساتھ بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اور اگر یہ فلم ناکام ہوتی ہے تو اس پوری فلم انڈسٹری پر بہت منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے۔

فلمی ناقدین پاکستان فلم انڈسٹری ناکامی کی کئی وجوہات بیان کرتےہیں جن میں ایک بڑی وجہ جہالت ہے۔ کچھ عرصہ سے فلم انڈسٹری پر ایسے لوگ مسلط ہیں جن کا آرٹ سے دورکا بھی واسطہ نہیں ہےوہ محض تفریح طبع یا شغل کے طور پر یہ دھندہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کے ایسے چند فلمسازوں کی ذہنی استعداد کا اندازہ لگانے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک فلمساز نےڈائریکٹر کو فلم کا ایڈوانس دینے کے لیے اجاڑ ویران جگہ پر بلایا اور کہا کہ’ اس جگہ پر انکے دادا نے دو قتل کیے تھے فلم کی کہانی کا آغاز ان دو قتلوں سے ہی ہونا چاہیے‘ ۔انکا کہنا تھا کہ’ وہ اپنے دادا پر فلم بنانا چاہتے ہیں‘۔

کچھ فلمساز ایسے ہیں جو صبح کے وقت سبزی منڈی میں سبزی بیچتے ہیں اور شام کو رائل پارک میں فلموں کا کاروبار کرتےہیں۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری جسے چند سالوں سے بھارتی گانوں کا میوزک ،بھارتی کوریو گرافی کی صورت میں آکسیجن لگا کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اب دم توڑتی نظر آرہی ہے۔

کچھ ’معالجین‘ اس انڈسٹری کو بچانے کے لیے بھارت کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کی دوا تجویز کر رہےہیں مگر اس فلم انڈسٹری کے ایک بڑے حلقہ کا کہنا ہےکہ اس دوا کے اثرات بہت خطرناک ہو سکتے ہیں ۔

دسمبر میں بھارتی اداکارہ ارملا ، پوجا بھٹ اور مہیش بھٹ پاکستان آۓ تو بیمار فلم انڈسٹری کی نظریں ان کی طرف لگی رہیں تاہم یہ بھارتی فلمی شخصیات بیمار پاکستان فلم انڈسٹری کو تسلیاں دے کر چلی گئیں۔

ارمیلا
بھارتی اداکارہ ارمیلا کی پاکستان آمد کو بھی سال دو ہزار تین کے اہم واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے

یاد رہے کہ اداکارہ ارمیلا سارک کے حوالے سے دستاویزی فلم کے لیے جبکہ پوجا بھٹ اور مہیش بھٹ کارا فلم فیسٹول کے سلسلہ میں پاکستان آۓ تھے ۔

اس سال کا ایک اہم واقعہ کارا فلم فیسٹول ہے کراچی میں منعقد ہونے والے اس گیارہ روزہ اس فلم فیسٹول میں چوراسی فلموں کی نمائش ہوئی جن میں امریکہ ،جرمنی ،کینیڈا،بھارت،پاکستان،بنگلہ دیش ،سمیت کئی ممالک کی بائیس فیچر فلمیں ستائیس دستاویزی فلمیں ستائیس شارٹ موویز اور آٹھ شارٹ فیچر موویز شامل ہیں ۔

اس فیسٹول کا آغاز ایک سو چار منٹ دورانیہ کی بھارتی دستاویزی فلم ’دی سپیکنگ ہینڈ‘ سے کیا گیا اور اختتام 122 منٹ کی امریکی دستاویزی فلم پر ہوا۔

اس فسیٹول میں بھارت کی اداکارہ و ہدائت کارہ پوجا بھٹ کی فلم پاپ دکھائی گئی یہ فلم بھارت میں سولہ جنوری دوہزار چار کوریلیز کی جاۓ گی۔

فلم انڈسٹری کودوہزار تین کو دو بری خبروں نے سوگوار کر دیا ۔ایک خبر اداکارہ میرا کے جوان بھائی مرتضیٰ کے امریکہ میں ٹریفک حادثہ میں ہلاکت کی تھی ۔ اور دوسری بری خبر سنئیر اداکارہ نگینہ کے قتل کی تھی۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کے بھی کئی افراد کو قتل کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد