BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2003, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریما ہدایت کارہ بنیں گی

اداکارہ ریما
فلم ’بلندی‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ ریما نے لگ بھگ دو سو تیس فلموں میں کا کیا

پاکستان فلم انڈسٹری کی شاید ہی کسی ہیروئن کو وہ شہرت نصیب ہوئی ہو جو میڈیا نے اداکارہ ریما کو بخشی ہے۔

اس شہرت میں ریما کی فلموں سے زیادہ ان اسکنڈلز کا عمل دخل رہا ہے جو ان کے تعلق سے اخبارات اور فلمی رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں۔

اپنے تیرہ سالہ کیریئر میں ریما نے لگ بھگ دوسو تیس فلموں میں کام کیا اور انہیں فلم انڈسٹری کی سب سے اچھی رقاصہ ہیروئن کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔

ریما نے اپنے کیریئر کا آغاز انیس سو نوے میں ہدایت کار جاوید فاضل کی فلم ’بُلندی‘ سے کیا جس میں شان بھی پہلی مرتبہ سلور اسکرین پر جلوہ گر ہوئے تھے۔

ادکارہ ریما
ریما اور شان کی جوڑی ایک لمبے عرصے تک فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی گئی

شان اور ریما کی یہ رومانی جوڑی فلم بینوں کے دلوں پر راج کرگئی اور آج بھی یہ دونوں ستارے جب کسی فلم میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں تو فلم بین فوراً ان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔

اس سال کے شروع میں ریما نے اپنی فلم ’شرارت‘ کے فلاپ ہونے کے بعد اعلان کیا کہ وہ اب اپنی فلم خود ڈائریکٹ کرینگی۔

بعض لوگوں کے نزدیک ریما نے یہ بیان محض جذبات میں آکر دیا تھا اور فلم کی ہدایت کاری کے بارے میں ان کا بیان محض اعلان ہی تھا لیکن ریما نے دن رات اپنے اس منصوبے پر کام کیا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فلم کا میوزک تیار ہوچکا ہے، فنکاروں کا انتخاب مکمل ہے اور شوٹِنگ کے لئے تمام تر تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں۔

ایک ملاقات میں ریما نے بتایا کہ فلم ڈائریکٹ کرنے کا اعلان انہوں نے بہت سو چ سمجھ کر اور فلم انڈسٹری کے موجودہ حالات سے مجبور ہوکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں عرصہ سے ایسی فلموں میں کام کررہی تھی جن میں غنڈہ گردی اور خون خرابے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔

 ان فلموں میں ہیروئن سے صرف شوپیس کے طور پر کام لیا جاتا تھا۔ اتنے عرصے تک میں ان بے سروپا فلموں میں کام کرکے ذہنی طور پر تھک چکی تھی

ریما

’ان فلموں میں ہیروئن سے صرف شوپیس کے طور پر کام لیا جاتا تھا۔ اتنے عرصے تک میں ان بے سروپا فلموں میں کام کرکے ذہنی طور پر تھک چکی تھی۔‘

ریما نے مزید بتایا کہ میں بطور اداکارہ بارہ سال سے فلم انڈسٹری میں کام کررہی ہوں لیکن میں زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتی تھی کہ ایسی فلموں میں کام نہ کروں لیکن اس سے فلم انڈسٹری کی مجموعی صورتحال تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ لہذا میں نے بہت غوروخوص کے بعد فیصلہ کیا کہ خود فلم ڈائریکٹ کروں۔

انہوں نے بتایا کہ اس فلم کا نام ’کوئی تم سا کہاں‘ رکھا گیا ہے اور اس کا سکرپٹ معروف ڈرامہ نگار اور فلم رائٹر خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کیا ہے۔

اداکارہ ریما
ریما کی شہرت میں ان کے کام سے زیادہ سکینڈلز کا عمل دخل ہے

ریما کے مطابق فی الحال کاسٹ میں معمر رانا، وینا ملک، ندیم اور وہ خود شامل ہیں۔ اس کے علاوہ معروف فلمی ولن طارق شاہ کے بیٹے ببرک شاہ بھی کاسٹ میں شامل ہیں۔ ریما کا کہنا ہے ببرک شاہ مستقبل کے سپر سٹار ثابت ہونگے۔

فلم کے میوزک کا ذکر کرتے ہوئے ریما نے بتایا کہ ’یہ دل آپ کا ہوا‘ اور بعض دیگر کامیاب پاکستانی فلموں کی طرح اس فلم کا میوزک ہندوستان میں تیار کیا گیا ہے۔

’یہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین فلمی میوزک ہے جس پر تاحال بیس لاکھ روپے سے زیادہ رقم خرچ ہو چکی ہے۔‘

انہوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا ہے کہ کاسٹ میں بعض غیر ملکی اداکار بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ فلم پاکستان کے علاوہ عالمی مارکیٹ میں بھی ریلیز کی جائے گی۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد