BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2003, 11:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فحاشی پرگرفتار اداکارائیں رہا

ببو برال اور دیگر اداکار
ببو برال اور عابد خان (مرحوم) پر مکالموں میں غیر شائستہ زبان استعمال کرنے کا الزام لگتا رہا ہے (فائل فوٹو)

گوجرانوالہ میں ایک ڈرامے میں اداکاری کرنے والی چار خواتین اداکاراؤں کو فحاشی پھیلانے کے الزام میں دو دن حراست میں رکھنے کے بعد آج رہا کردیا گیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ ریاض الحسن علوی نے ان ادکااؤں کی فحاشی پھیلانے کی فوجداری دفعہ دو سو چورانوے پر درخواست ضمانت منظور کرلی اور ان کے خلاف ایف آئی آر میں لگائی گئی سولہ ایم پی او (امن عامہ کے لیے خطرہ کا باعث ہونا) کی ناقابل ضمانت دفعہ کو واپس لے لیا۔

پیر کی رات ماڈل ٹاؤن پولیس نے جوڈیشل سپیشل میجسٹریٹ غلام مصطفی شیخ کی نگرانی میں تھیٹر کی ان چار اداکاراؤں ، حنا شاہین، سلومی، گلناز اور رانیا، کو ڈرامہ شو کے دوران رات بارہ بجے کے قریب وقفہ کے دوران میں گرفتار کرلیا تھا۔

اداکاراؤں کے وکیل ندیم کوثر نے بتایا کہ وہ مقدمہ کو خارج کرنے کے لیے کل ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں اداکاراوں کو گرفتار کرنے والے تین میجسٹریٹوں نے رات بھر اپنی نجی رہایش گاہ پر رکھا اور مسلم لیگ(ق) کے کلچرل ونگ کے سربراہ مظہر حسین عابد کی مداخلت پر انہیں سینٹرل جیل پہنچایا گیا۔

وکیل کا کہنا ہے یہ ملک میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک سیشن جج نے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوۓ اداکاراؤں کی گرفتاری کے لیے میجسٹریٹ مقرر کیے اور سیاستدانوں او فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف استعمال ہونے والی دفعہ ان پر لگائی گئی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ریاض الحسن علوی کے مقرر کردہ اہلکاروں نے ان اداکاراؤں پر ’حسن کی دیوی‘ نامی ڈرامے میں کام کرتے ہوۓ فحاشی اور عریانی پھیلانے اور عوام کے جذبات مجروح کرنے کا الزام لگایا تھا

پولیس کے چھاپہ کے وقت ڈرامہ کے پروڈیوسر ، مینیجر اور دوسرے فنکار موقع سے فرار ہوگئے جبکہ تماشائیوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔ چھاپہ کی وجہ سے شہر میں دوسرے تھیٹرز میں بھی ڈرامے وقت سے پہلے بند ہوگۓ۔

آج کل ملک کے مختلف شہروں میں ڈرامہ تھیٹروں کے خلاف حکومت سختی سے پیش آرہی ہے۔ اس سے پہلے لاہور میں فحاشی پھیلانے کے الزام میں دو اداکاراؤں کے خلاف مقدمات قائم کیے گۓ تھےجنہیں لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں خارج کردیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کے ڈرامہ تھیٹروں میں رقص کے خلاف کارروائی کو غیر قانونی بھی قرار دیا تھا۔ پنجاب میں تھیٹر عوامی تفریح کا بڑا ذریعہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد