BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 September, 2003, 14:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کے تھیٹروں میں رقص پابہ زنجیر

اداکارہ نرگس ایک تھیٹر پرفارمنس سے دوران
لاہور کے سٹیج ڈراموں میں ڈانس کو فروغ دینے میں اداکارہ نرگس کا کردار بہت اہم ہے

چند ماہ پہلے لاہور انتظامیہ کی طرف سے شہر میں چلنے والے پانچ تھیٹروں کی بندش اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تنازعے نے سٹیج ڈراموں میں فحاشی کے مسئلے کو ایک بار زندہ کر دیا۔ اس سے پہلے لاہور کے تھیٹروں فحش جگت بازی اور سکرپٹ سے ہٹ کر قابل اعتراض جملے بولنے کا الزام لگایا جاتا تھا لیکن اس بار ڈراموں میں پیش کئے جانے والے رقص قابل اعتراض ٹھہرے۔

اس تنازعہ کا ابتدا میں فوجداری مقدمے کا سامنا کرنے والی اداکاراؤں پر بھی رقص کے دوران فحش حرکات کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور بعد میں جب تھیٹروں کو کھولنے کا اجازت بھی دی گئی تو رقص پر محدود پابندی برقرار رہی۔

لاہور میں تھیٹر سے متعلقہ تمام لوگ فحاشی کے الزام کی تردید کرتے ہیں اور تھیٹر کے ذریعے صاف ستھری تفریح مہیا کرنے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں۔

اداکارہ خوشبو
اداکارہ خوشبو اور عائشہ خان کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے فوجداری مقدمہ درج کرایا گیا تھا

اداکارہ لاشانہ کے بقول ڈانس پر پابندی سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ انہیں اداکاری کا شوق ہے۔پابندی سے پہلے بھی وہ حد میں رہ کر ڈانس کرتی تھیں۔مسرت ملتانی کہتی ہے کہ ڈرامے میں رقص ہونا چاہیے مگر فحاشی کے بغیر اور جو فنکارائیں ایسا کرتی ہیں وہ غلط ہے۔انہوں نے تو کبھی ایسےا نہیں کیا۔لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی سے پہلے سٹیج ڈراموں کے دوران مبینہ طور پر ایسے رقص ہوتے تھے کہ جن میں رقاصائیں تماش بینوں کی تفریح طبع کے لۓ تمام تر حدود و قیود پھلانگ جاتی تھیں۔ لاہور کے ایبٹ روڈ پر واقع ایک تھیٹر کی انتظامیہ نے ڈانس پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے لہذا وہاں ڈانس ہو رہا ہے ۔

 میں آج کل انار کلی ڈرامے میں ڈانس کر رہی ہوں پورے لباس میں صاف ستھرا ڈانس ہے اور کسی تماشائی نے آواز نہیں لگائی کہ قمیض اوپر اٹھاؤ

اداکارہ سپنا

اس تھیٹر میں چلنے والے رقاصہ نامی ڈرامے میں اداکارہ شہزادی اور مدیحہ شاہ ڈانس تو کر رہی ہیں مگر شاید انتظامیہ کے خوف سے یہ ڈانس اس ڈانس سے بہت مختلف ہے جو پابندی سے پہلے ہوا کرتا تھا۔محفل تھیٹر میں انار کلی نامی ڈرامے میں رقاصائیں پورے لباس کے ساتھ سٹیج پر آ کر ڈانس تو کر رہی تھیں مگر پورے جسم کو ہلانے سے خاصا پرہیز تھا۔رقاصاؤں کے بر عکس ایک مرد رقاص عامر عطا نے اپنے جسم کو خوب تھرکایا اور بہت داد وصول کی۔

ناز تھیٹر جو ذرا عقب میں واقع ہے وہاں جگت بازی کے بادشاہ امان اللہ کا ڈرامہ چل رہا تھا کہ جس میں کوئی ڈانس نہیں تھا اور شاید اسی لیۓ وہاں تماشائیوں کی تعداد بقیہ تھیٹروں کے مقابلے میں کم تھی۔

اس ڈرامے میں جگت بازی گو کہ پابندی کے زیراثر تھی مگر کبھی کبھی اپنی پرانی ڈگر پر بھی چل نکلتی کیونکہ ہال میں کافی دیر سے خاموش بیٹھے تماشائیوں کو ہنسانے کے لئے جگت کو تھوڑا بہت مسالے دار تو بنانا پڑتا ہے۔

تماشائیوں میں سے بیشتر کی رائے یہی کہ پابندی کے بعد ڈرامہ بہتر ہوا ہے اب وہ گھر کی خواتین کے ہمراہ ڈرامہ دیکھ سکتے ہیں۔ان کا کہنا کہ ڈرامے میں ڈانس ہونے چاہئیں مگر حد کے اندر جگت بازی اچھی لگتی ہے لیکن اس میں فحش جملے نہیں ہونے چاھیئں۔مگر جونہی کوئے فحش جملہ آتا تو سب کے سب کھلکھلا اٹھتے۔

تماشائیوں میں موجود کراچی سے آئے ہوئے ایک تاجر جاوید کا کہنا کہ وہ لاہور صرف اور صرف سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لیۓ آتے ہیں کیونکہ انہیں لاہور کے فنکاروں کی جگت بازی بہت پسند ہے۔انہیں رقص سے کوئی دلچسپی نہیں ان کے بقول کراچی میں ایسے تماشے تو خوب اور پورے جوبن پر ہوتے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے لگنے والی اس پابندی پر ہدایت کاروں اور اداکاروں کا مؤقف کچھ اور جبکہ پرڈیوسرز کا مؤقف انکے

بالکل برعکس تھا۔

گزشتہ پچیس سال سے سٹیج کے لیے ڈرامہ لکھنے اور ہدایات دینے والی ناہید خانم کے بقول کچھ فنکاراؤں نےآپس کی ضد بازی کی وجہ سے ڈانس کے نام پر غلط حرکات شروع کر دی تھیں جس کے سبب تھیٹر کو اس بحران کا سامنا کرنا پڑا اچھے رقص کو ڈرامے میں ہونا چاھیۓ۔

تیس سال سے تھیٹر سے رائٹر اور ڈاریکٹر کے طور پر وابستہ مرزا رشید اختر کے بقول ماضی میں سٹیج ڈرامہ بہت اچھا تھا اداکاری عمدہ تھی۔ کہانی اچھی ہوتی تھی۔ سکرپٹ جاندار ہوتا تھا۔مزاح کہانی کے ساتھ ساتھ چلتا تھامگر تقریبا دس سالوں سے صرف جگت بازی پر ہی انحصار کیا جاتا ہے اور گزشتہ چار پانچ سال سے ڈرامے میں ڈانسز ہونے لگے جس سے اس صنف کا مذید بیڑا غرق ہو گیا جبکہ رشید اختر کے بقول ڈرامے میں ڈانس کی قطعا گنجائش نہیں۔

جاوید حسن جو پچیس سال سے اداکاری اور ہدایت کاری کر رہے ہیں گلا کرتے ہیں کہ پانچ منٹ کا فحش ڈانس اداکار کی دو گھنٹے کی محنت اور برسوں کی ریاضت پر پانی پھیر دیتا ہے کیونکہ جو لڑکی ڈانس کرنے آتی ہے وہ سارا شو لوٹ لیتی ہے ۔

فلم اور تھیٹر کے معروف اداکار افضل خان عرف جان ریمبو کے بقول ون مین شو نے تھیٹر کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور واقعاتی مزاح جو کبھی تھیٹر کا طرۂ امتیاز ہوا کرتا تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ جب سے اداکاراؤں نے ڈانس کرتے ہوئے تماشائيوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیہودہ حرکتیں شروع کر دی ہیں اس سے ماحول اور تماشائی دونوں بگڑ گئے ہیں۔

ناز تھیٹر میں کام کرنے والے ایک اداکار زاہد منہاس کا مؤقف ان سب سے مختلف تھا۔ان کے بقول ڈانس پر لگنے والی یہ پابندی بالکل غلط ہے انہوں نے کہا کہ تھیٹر میں ہونے والے ڈانسز کا موازنہ اگر پاکستان کی سنسر شدہ فلموں میں ہونے والے ڈانسز سے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تھیٹر کے ڈانس اخلاقی طور پر فلم سے بہتر ہیں لہذا یہ پابندی ناجائز ہے۔

تھیٹر کے پرڈیوسرز کا مؤقف بھی ایسا ہی ہے۔ گزشتہ دو دھائیوں سے لاہور کے تھیٹروں کے لئے ڈرامہ پیش کرنے والے عطااللہ تو انتظامیہ سے بے حد نالاں ہیں ان کے بقول انتظامیہ کے ڈانس پر جو الزامات وہ پنجابی کی کہاوت ’آٹا گنھدی ہلدی کیوں ایں‘ کے مترادف ہے۔ اس سے زیادہ بیہودہ ڈانس تو فلموں میں ہوتا ہے ۔ان کا کہنا کہ انتظامیہ کے درجنوں لوگ روزانہ ہال کی پہلی نشستوں پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہم وہ نشستیں فروخت بھی نہیں کر سکتے۔

عطااللہ نے انتظامیہ کے افسران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب تو ایک دکھاوہ تھا اصل میں ان کے عزائم کچھ اور تھے۔ان کے اس رویے سے اس صنعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ تماشائیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔انہوں نے معروف اداکاروں کے انتظامیہ کی تائید کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاکیونکہ ڈانسز والا ڈرامہ بڑے فنکاروں کا محتاج نہیں ہوتا ار اس میں ان کا معاوضہ بھی کم ہوتاہے جبکہ ڈانس نہ ہوں تو ان کا معاوضہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اسی لئے یہ اداکار ڈانس کے خلاف ہیں

ناز تھیٹر میں برس ہا برس سے کینٹین چلانے والا منیر احمد کہتا ہے کہ اس کے کاروبار میں اسی فیصد کمی آئی ہے وہ پرانے دور کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اداکارہ نرگس کے دور میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔اور اس کا کاروبار زوروں پر ہوتا تھا۔

ناز تھیٹر کے انچارج نذیر بٹ کہنا تھا کہ ہم حکومت کے احکامات کا احترام کرتے ہیں تاہم انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر ہمدردانہ غور کرے کیونکہ اس سے کئی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ تھیٹر مالکان پرڈیوسرز اور انتظامیہ کو مل بیٹھ کر کوئی درمیانی راستہ ڈھونڈنا چاہيے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد