BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2003, 18:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رقص پر پابندی بلا جواز ہے

رقص
لاہور انتظامیہ نے سٹیج پر رقص پر پابندی لگا دی تھی

جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تھیٹروں میں رقص سے متعلق ایک آئینی درخواست نمٹاتے ہوۓ کہا ہے کہ ملک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت تھیٹر میں رقص پیش کرنے پر پابندی ہو۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے مختلف درخواستوں کو نمٹاتے ہوۓ فریقین کے وکلاء سے کہا کہ وہ لاہور کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) سے رجوع کریں جو رقص پر لگائی جانے والی پابندی کے معاملہ کو قانون کی روشنی میں دیکھیں اور پھر فریقین مل کر طریقہ کار بنائیں کہ تھیٹر کو کس طرح ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے۔

رقص اور زنجیر
مدیحہ شاہ اور شہزادی کے خلاف فحاشی پھیلانے کے الزام میں فوجداری مقدمے پہلے ہی خارج ہو چکے ہیں

لاہور کے ڈی سی او نے تئیس جولائی کو تھیٹروں میں رقص پیش کرنے پر پابندی لگا دی تھی اور دو دن لاہور کے نجی تھیٹر بند بھی رہے تھے۔ اس کے خلاف لاہور تھیٹر کے ہدایت کار چودھری ارشد نے عدالت عالیہ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔ اس کے بعد لاہور کے محفل تھیٹر اور گجرات کے سنگیت تھیٹر نے بھی رقص پر پابندی کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

لاہور کی ضلعی حکومت نے تھیٹر میں کام کرنے والی دو اداکاراؤں مدیحہ شاہ اور شہزادی کے خلاف فحاشی پھیلانے کے الزام میں فوجداری مقدمے قائم کردیئے تھے جنہیں چیف جسٹس پہلے ہی خارج کرچکے ہیں۔

عدالت عالیہ ان درخواستوں پر دو دن کے بعد تحریری فیصلہ جاری کرے گی۔ تاہم آج وکلا کی بحث کے دوران چیف جسٹس نے زبانی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ رقص پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی البتہ اس میں فحاشی روکنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جاسکتا ہے۔

 کیا ضلعی حکومت کے پاس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تھیٹروں میں رقص کے معاملہ کو دیکھے ؟

چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا کوئی نوٹیفیکیشن اس وقت تک جائز نہیں جب تک اسے قانون کی حمایت حاصل نہ ہو اور حکومت کو تفریح کے مواقع کم کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ضلعی حکومت کے پاس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تھیٹروں میں رقص کے معاملہ کو دیکھے اور شہر کے دوسرے مسائل جیسے صفائی وغیرہ پر توجہ نہ دے؟

ان آئینی درخواستوں کے جواب میں ضلعی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے تھیٹروں میں رقص پر پابندی عائد نہیں کی اور تھیٹروں میں ایسے رقص پیش کیے جا سکتے ہیں جن میں فحاشی اور عریانی نہ ہو اور رقص کرنے والے اپنے بدن کے حصوں کو ننگا نہ کریں۔

حکومت نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے تھیٹروں کی ریہرسل سے ایسے رقص حذف کیے تھے جو ڈراموں کی صورتحال سے مناسبت نہیں رکھتے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ تھیٹروں میں پیش کیے جانے والے رقص مجروں کی طرح تھے۔

تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ تھیٹر عوامی تفریح کا ذریعہ ہیں اور یہ ایسے رقص بھی ڈرامہ کے دوران میں دکھائیں جس کا کہانی سے تعلق نہ ہو تو اس پر بھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

حکومت نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ اٹھارہ سو چھہتر کے ڈرامیٹک ایکٹ کے تحت ڈی سی او کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی تمام اداکاری کو ریگولیٹ کرے تاکہ معاشرہ کا ڈھانچہ متاثر نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد