| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈوبتی ہوئی پاکستانی فلمی صنعت؟
پاکستانی فلمی صنعت کی گاڑی اس چوراہے پر کھڑی ہے جس کا ہر راستہ موت کی وادی کی طرف جاتا ہے۔ گزشتہ چھپن سالوں میں اتنا شدید بحران پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور نہ ہی فلمی صنعت اس قدر زوال پزیر ہوئی تھی جتنی کہ ان دنوں نظر آرہی ہے۔ ہر طرف مایوسی کا عالم ہے۔ فلمی صنعت کے اس بحران پر گفتگو کیلئے میں نے ماضی کے معروف ہیرو اور کئی ایک معیاری اور کامیاب فلموں کے پروڈیوسر اعجاز درانی سے رابطہ کیا۔ لالی وڈ کی موجودہ حالت زار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:- ’سینما مالکان ہمارے فلم سٹوڈیو اور موجودہ دور کے فلمساز اس بحران کے ذمہ دار ہیں۔ دنیا میں فلمی انڈسٹری کے پس پشت تھوڑا بہت حکومت کی پالیسیوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔ کوئی بھی کاروبار ہو اس میں اگر مشکلات آتی ہیں تو انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر معاملہ حکومت تک پہنچانا ہو تو نمائندہ تنظیموں کا کام ہےکہ وہ ان معاملات کو ایسے انداز سے حکومت تک پہنچائیں کہ وہ مسئلہ حل ہو جائے۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ یہاں ایک ہی حکومتی ادارہ نیف ڈیک تھا جس کے ذریعے حکومت سے رابطہ تھا، لیکن ہم نے اسے بند کرا کے دم لیا۔ دنیا کے ہر ملک میں نیف ڈیک قائم کی جاتی ہیں ۔ بھارت، بنگلہ دیش حتیٰ کے لندن میں بھی فلم انڈسٹری کی ترقی کیلے ادارے موجود ہیں۔ بنگلہ دیش جب پاکستان کا ہی حصہ تھا وہاں نیف ڈیک قائم کی گئی اور اس نے فلمی صنعت کو بھارت کے برابر لا کھڑا کیا۔ انہوں نے فلمسازوں کو فنی سہولتیں بھی دیں اور سرمایہ بھی فراہم کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بنگلہ دیش کی فلمی صنعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہے۔ آپ آج کے سیاسی حالات پر غور کریں اگر پارلیمان نہیں چل سکتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے توڑ دیا جائے یا ختم کر دیا جائے۔ اسی طرح پاکستان میں نیف ڈیک کی اصلاح کی جا سکتی تھی۔ لیکن اس ختم نہیں کرنا چاہیے تھا فلم پروڈیوسرز اور حکومت کے درمیان رابطے کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک بحران کا تعلق ہے یہ پروڈیوسرز اور سینما مالکان کا خود پیدا کردہ ہے۔ گزشتہ پچس سال سے جو فلمیں بن رہی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ جب تک اصلاحی ، معاشرتی اور رومانی ٹائپ کی فلمیں بنتی رہیں۔ فلم انڈسٹری میں بیک وقت دس دس ہیرو اور ہیروئینز موجود تھیں۔ ہر فلم بین کو اس کی چوائس کے مطابق فلم مل جاتی تھی لیکن جب سے فلموں میں ہیرو شپ منفی کرداروں کے سپرد کر دی گئی اور سارا بوجھ اکیلے سلطان راہی پر ڈال دیا گیا اور اس کی موت کے بعد اب شان کوسلطان راہی بنا دیا گیا۔ تو ایک ہی طرح کی فلمیں مسلسل آنے سے ہمارے فلم بین آہستہ آہستہ دور چلے گئے۔ ہر اچھی فلم فیملیز ذوق و شوق سے دیکھتی تھیں۔ سلطان راہی برانڈ فلموں کی وجہ سے عورتوں کی سو فی صد تعداد نے سینما کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ جبکہ اس سے قبل فلموں کی کامیابی میں فیملیز کا ہی زیادہ تعلق ہوتا تھا۔ بار بار ایک ہی موضوع کو عوام کب تک دیکھتے۔ اس سلسلے میں سینما کا تصور یہ ہے کہ انہوں نے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دی۔ بلکہ حکومت کی طرف سے فکسڈ ٹیکس کی جو سہولت دی گئی اس کا فائدہ عوام کی بجائے سینما مالکان نے اٹھایا۔ سینما ٹکٹ جو تیس روپے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ساٹھ روپے کر دیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اب فلمی صنعت کا یہ بحران کیسے دور کیا جا سکتا ہے اعجاز درانی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے نیف ڈیک کو دوبارہ فعال کرے اور نیف ڈیک کے اثاثوں سے جو رقم حاصل کی گئی ہے اس صیح طریقہ سے استعمال کرے۔ جدید ترین کیمرے اور لیب ہونا ضروری ہے۔ نیک نام پروڈیوسرز اور فلمسازوں کو سرمایہ مہیا کیا جائے۔ فلمساز اچھی کہانیوں کی تلاش کریں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اچھا پروڈیوسر ہی اچھی فلم بنا سکتا ہے۔ آج کے نوے فی صد فلمساز صرف پیسہ کمانے کو سوچ میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس فلم بنانے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس صرف دو سرکٹ ہیں۔ ہمیں چاہئےکہ نئے سرکٹ تلاش کریں ۔ اگر یورپی ممالک کے لیے ہماری فلم کوالٹی کے لحاظ سے بہتر نہیں ہوتی تو آپ سری لنکا، نیپال، اور مڈل ایسٹ میں کوشش کریں۔ آخر انیس سو ستر سے پہلے دنیا میں ہماری فلم چلتی تھی۔ اب چونکہ فلم میکر ختم ہوگئے، تجربہ کار ہدایت کار اور پروڈیوسر کچھ چھوڑ گئے اور کچھ سلطان راہی برانڈ فلمسازوں کی وجہ سے سٹوڈیوز کا ماحول خراب ہونے کے باعث فلمی دنیا کو خیرباد کہے گئے۔ سٹوڈیوز کو دیکھ لیں وہاں کے ماحول کو دیکھ لیں کوئی سنجیدہ شخص وہاں کام نہیں کر سکتا۔ حکومت کی طرف سے فلم سٹی بنانے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ ہمارے فلمسازوں کی خوش فہمی ہے کہ حکومت فلم سٹی بنائے گی۔ فلم سٹی کی پہلے منصوبہ بندی تو کی جائے۔ دوسرے ملکوں میں جو اس قسم کے فلم سٹی بنے ہیں ان کا جائزہ لیا جائے۔ پھردیکھا جاے کہ ہماری محدود مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے کیا فلم سٹی کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے پاس فلمی صعنت کی نمائندہ جماعت ہی نہیں۔ ہم آپس میں دست و گریباں ہیں۔ یہ تو تجربہ کار اور نامور فلمسازوں کا کام ہے کہ وہ حکومت کے نمائندوں سے کوئی نتیجہ خیز بات کریں۔ اپنی فلموں کا معیار بلند کریں اور ان کی نمائش کیلے نئی مارکیٹ تلاش کریں۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کیلئے جو کوشش کر جا رہی ہیں اس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انیس سو پینسٹھ سے پہلے ہمارے ہاں بھارتی فلموں کا مقابلہ کیا۔ اب بھی ہمیں بھارتی فلموں سے کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے لیکن اب بھارتی فلمیں کسی پالیسی کے تحت ہی آسکتی ہیں۔ بھارتی فلموں کے آنےسے پاکستانی فلموں کی پروڈکشن میں جو کمی آئی ہے وہ پورا ہو سکتی ہیں لیکن اس سلسلے میں سب سے پہلے کشمیر کا فیصلہ ضروری ہے۔ اگر کلچر پالیسی حکومت بنالیتی ہے اور بھارت سے کلچر کے تبادلے میں بھارتی فلمیں بھی آتی ہیں تو وہ اس صورت میں ہی قابل عمل ہے کہ ہماری فلموں کی نمائش بھی بھارت میں ہو۔ یک طرفہ کارروائی ہماری فلمی صنعت کو اور لے ڈوبے گی۔ ابھی جو غیر قانونی طور پر بھارتی فلمیں وڈیو اور سی ڈی پر آ رہی ہیں ان سے ہی ہمیں کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر بھارت کی مارکیٹ ہماری فلموں کے لیے کھل جاتی ہے تو بھارت فلمیں چلانے میں کوئی نقصان نہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمارے تحفظات پر ضرور نظر رکھنی پڑے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||