نورجہاں کی یاد دلوں میں زندہ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط میں قصور(پاکستان) میں ایک بچی اللہ وسائی نے جنم لیا جسے قدرت نے فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال کرکے اس دنیا میں بھیجا تھا۔ اس نے اپنی فنی زندگی کا آغاز پس پردہ گلوکارہ کے طور پر کیا مگر جلد ہی یہ آواز پس پردہ سے سرپردہ ہوئی اور ایک عرصہ تک فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا۔ انیس سو سینتالیس میں بٹوارے کے بعد اس نے ممبئی کی فلمی دنیا کو خیرباد کہا اور لاہور میں نئے سرے سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا اور اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ساتھ ملکر لاہور میں فلمی صنعت کی بنا ڈالی۔ مگر جب خوابوں کا یہ محل تعمیر ہوچکا تو اس وقت تک اللہ وسائی کا اپنا گھر ٹوٹ چکا تھا۔ ایسے وقت میں اللہ وسائی نے اپنی اولاد اکبر، اصغر اور ہما کے حصول کے لیے اپنے حصے کا سب کچھ بھی سابق شوہر کے حوالے کر دیا۔ اب اس نے ایک بار پھر اپنی فنی زندگی کو صفر شے شروع کیا اور ایک مرتبہ پھر نام کمایا۔ اس وقت تک اللہ وسائی فلموں کو خیر باد کہہ چکی تھی اور صرف گلوکارہ کی حثیت سے جانی پہچانی جاتی تھی۔
اس موقع پر اس نے دوسری شادی ایک فلمساز سے کی اور اس کی فلم ہیر رانجھا کے لیے خواجہ خورشید انورکی مرتب کی ہوئی موسیقی میں کچھ اس طرح دل سے نکلنے والی کسی آواز میں گانے گائے کہ وہ فلم اپنے گانوں کی وجہ سے کلاسک میں شمار ہونے لگی۔ مگر دوسرے شوہر نے بھی شہرت اور اللہ وسائی میں سے شہرت کا انتخاب کیا اور اللہ وسائی کا ایک مرتبہ پھر اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ ذہنی ومعاشی صدمے سے دوچار ہوئی۔ مثل مشہور ہے کہ’ہمت مرداں مدد خدا‘ مگر اللہ وسائی نے عورت ہو کر بھی ہمت نہ ہاری اور مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا اور باقی ماندہ زندگی میں اپنے فن سے بطور فنکارہ اور اپنی اولاد سے بطور ماں انصاف کرنے میں کوشاں رہی اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنی بیماری سے بر سر پیکار رہی۔ مگر بالآ خر تیئیس دسمبر سن دو ہزار کو ملک عدم سدھار گئی۔ اللہ وسائی، قصور کی اللہ وسائی مر گئی مگر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں نور جہاں تا ابد زندہ رہے گی۔ جی ہاں وہی نور جہاں جس پر منٹونے ’نور جہاں سرور جہاں‘ کے نام سے لکھا۔ وہی نور جہاں جسے ملکۂ ترنم کا خطاب انکی زندگی میں ملا، وہی نور جہاں جس کی آواز کے بغیر کسی فلم کی تکمیل نا ممکن تھی۔ دنیا میں جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی وہاں وہاں نور جہاں کے چاہنے والے موجود ہیں۔ اور اس محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد جب حکومت وقت نے نور جہاں کو ہندوستان اور لتا کو پاکستان کا ویزہ دینے سے انکار کیا تو لتا نور جہاں سے ملنے واہگہ باڈر آئیں اور دونوں نے نو مین لینڈ پر ملاقات کی۔ نور جہاں کو اپنی گائیکی کے باعث ملکہ ترنم کا خطاب دیا گیا مگر وہ طبعاً بھی ملکہ ہی تھیں۔اس ضمن میں راوی کہتا ہے کہ ایک مرتبہ خورشید انور مرحوم نے فلم مرزا جٹ کی پس پردہ موسیقی کے لیے نور جہاں کا انتخاب کرنے سے انکار کردیا جس پر نور جہاں نے اپنی ایک فلم بنائی جس کا نام جا مرزا رکھا اور مرزا جٹ سے پہلے اسے فلم بینوں کی نمائش کے لیے سینما پر چلادیا۔ نور جہاں کی زندگی بھی سکینڈلز سے بھری ہوئی تھی اور عام طور مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ مشاہیر اپنے بارے میں سچی بات کہنے سے ڈرتے ہیں لیکن نور جہاں میں یہ وصف بھی پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے بارے میں بھی صاف گوئی سے کام لیتی تھیں۔ بقول نور جہاں: ’میں اپنے گانوں، کپڑوں، ہیروں اور معاشقوں کا حساب نہیں رکھتی۔‘ نور جہاں کی وفات کراچی میں ہوئی مگر انکی خواہش تھی کہ انہیں لاہور میں دفنایا جائے۔ جبکہ اہالیان قصور انہیں قصور میں دفنانا چاہتے تھے اور صدر جنرل پرویز مشرف انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنانا چاہتے تھے مگر انکے دوسرے شوہر اعجاز درانی اور انکی بیٹیوں نے انہیں کراچی میں ہی دفنا دیا۔ نور جہاں ایک فانی ہستی تھی سو خاک میں جاملی مگر اس کا نام اور کام دونوں لافانی ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||