| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمیں: کوئی خوش، کوئی نالاں
گزشتہ دنوں ایک ڈاکو منٹری کے سلسلے میں ہندوستان کی اداکارہ ارمیلا لاہور آئیں تو انہیں لاہور کے فلمی حلقوں میں جو پذیرائی ملی اس کی بازگشت ابھی تک آ رہی ہے۔ پھر کارا فلم فیسٹیول میں شمولیت کے لئے فلمساز مہیش بھٹ اور ان کی بیٹی اداکارہ پوجا بھٹ کراچی تشریف لائے۔ ان فلمی شخصیات کی آمد نے دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی محبت بھری ہواؤں کو معطر کر دیا۔ پوجا بھٹ نے اپنی نئی فلم کا آغاز کراچی میں جنون گروپ کے علی عظمت کے ترتیب شدہ ایک نغمے سے کیا۔ مہیش بھٹ نے اعلان کیا کہ وہ پاک بھارت مشترکہ فلم سازی کا آغاز کریں گے اور اس فلم میں بھارتی اداکاروں کے ساتھ پاکستانی ہیروئن میرا مرکزی کردار ادا کریں گی۔
مہیش بھٹ خوشگوار یادیں لے کر بھارت واپس گئے تو ایک نئے ٹی وی اور فلم پروڈیوسر آصف علی پوتا نے بھارتی اداکار جتندر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور توقع ہے کہ وہ فروری کے وسط میں بسنت کے موقع پر ہندوستانی فنکاروں کے ایک وفد کے ساتھ پاکستان آئیں گے۔ بارہویں سارک کانفرنس کی کامیابی اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی اور ثقافتی وفود کے تبادلے کے بعد فلمی حلقوں میں نئی امنگیں جنم لے رہی ہیں۔ اخبارات میں لاہور کے سنیما مالکان کے جانب سے ہندوستان سے قائم ہونے والے روابط کے پیش نظر مطالبہ جا رہا ہے کہ بھارتی فلموں کی درآمد کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ جب بھارتی فلمیں غیر قانونی طور پر وی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی شکل میں پاکستان میں گھر گھر پہنچ رہی ہیں تو پھر سنیما میں انڈین فلمیں چلانے میں کیا حرج ہے۔
ان کے مطابق انڈین فلموں کی برآمد سے وہ خلا بھی پورا ہو جائے گا جو آج کل پاکستانی فلموں کی پروڈکشن میں کمی کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے کیبل آپریٹرز پر انڈین فلمیں چلانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن یہ کام چوری چھپے جاری ہے۔ پاک بھارت مشترکہ فلمسازی اور انڈین فلموں کی درآمد کا سلسلہ سن انیس سو پینسٹھ تک جاری تھا۔ اس دور میں بھی محدود تعداد میں انڈین فلمیں درآمد کی جاتی تھیں۔ ان میں ٹاپ اسٹار فلمیں بھی شامل ہوا کرتی تھیں۔ لیکن ان فلموں کی نمائش کے دوران پاکستانی فلمسازوں نے بے حد کامیابی سے ان کا مقابلہ کیا اور لاتعداد سپر ہٹ فلمیں بنائیں۔ سن انیس سو پینسٹھ کے بعد انڈین فلموں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تو پاکستان میں بننے والی فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن ان کا معیار برقرار نہ رہ سکا۔
موجودہ دور میں غیر قانونی انڈین فلموں اور ٹی وی چینلز کی بھر مار سے فلموں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور سنیما مالکان کے نزدیک اس کاروبار میں بہتری ہندوستان کے ساتھ مشترکہ فلمسازی اور محدود تعداد میں بھارتی فلموں کی درآمد میں مضمر ہے۔ دوسری طرف پاکستانی فلمسازوں اور ہدایت کاروں کی ایک بڑی تعداد انڈین فلموں کی درآمد کے سخت خلاف ہے۔ ہدایت کار سنگیتا نے ایک بیان میں بھارتی فلموں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مشترکہ فلم سازی سے پاکستانی فلمی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ’جس طرح بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے اسی طرح ہندوستانی فلمی صنعت پاکستانی فلمی صنعت کو نیست و نابود کر دے گی۔‘ پاکستان مووی آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف خان بھی ہندوستانی فلموں کی درآمد کے سخت مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان دعوے تو سیکولر سٹیٹ ہونے کے کرتا ہے لیکن اندر سے وہ انتہائی متعصب ہندو ریاست ہے۔
’ہردوسری ہندوستانی فلم میں ہندومت کے پرچار کے علاوہ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔‘ یوسف خان کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ نہ تو مشترکہ فلمسازی کی اجازت دیں گے اور نہ ہی پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہونے دیں گے۔ ان سب قیاس آرائیوں پر بعض سینیئر فلمی بزرگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فلموں کی درآمد مستقبل میں ممکن نہیں ہے۔ اگر کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ تمام معاملات طے ہو جاتے ہیں تو مشترکہ فلم سازی بھی ہو سکتی ہے اور بارٹر سسٹم کے تحت فلموں کی درآمد بھی ہو سکتی ہے۔ اگر تجارتی اصولوں کو مد نظر رکھ کر اس بات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بارٹر سسٹم کے ساتھ پاکستانی فلموں کو انڈیا کے چھبیس جبکہ انڈین فلموں کو پاکستان میں صرف دو سرکٹ حاصل ہوں گے۔ لیکن ان مواقع سے اسی وقت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب پاکستانی فلموں کا تیکنیکی اور فنی معیار بہتر ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان میں درآمد ہونے والی انڈین فلمیں تو سنیما پر چلیں گی جبکہ ہندوستان بھیجی جانے والی پاکستانی فلمیں ڈبے میں بند ہی پڑی رہیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||