معمر رانا اور وینا ملک بالی وڈ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اداکار معمر رانا اور اداکارہ وینا ملک بھارت کے دورے کے بعد واپس پہنچ گئے۔ دونوں فنکاروں نے بالی وڈ میں تقریباً تین ہفتے قیام کیا۔ اس دوران دونوں فنکاروں کی وہاں پر کیا مصروفیات رہیں؟ بالی وڈ کی کس کس شخصیت سے ملاقاتیں ہوئیں؟ ان کے دورے کے مقاصد کیا تھے؟ اور ان کے وہاں شب و روز کیسے گزرے؟ یہ معلوم کرنے کے لئے ہم نے دونوں فنکاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ان کے ساتھ تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔ لالی وڈ کے سپر سٹار معمر رانا نے اپنے دورہ بھارت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا مجھے وہاں پر بے پناہ عزت ملی۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے بھر پور کوریج دی۔ جتنے دن وہاں پر رہا اکثر اخبارات نے زیادہ تر ایسی سرخیاں لگائیں۔ جن کا مفہوم یہ تھا کہ میرا وہاں جانا اور بالی وڈ کی فلم میں کام کرنا دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دوستی کی طرف ایک اہم قدم ہے اور میرے لئے یہ بہت بڑا اعزاز بھی حاصل ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد پہلا آرٹسٹ ہوں جس نے باقاعدہ ورک پرمٹ لے کر بھارت کی فلم میں کام کیا۔
اس فلم میں معمر رانا نے ایک گانا اور چار سین عکسبند کرائے۔ ’گانا ایک کلب میں عکسبند ہوا۔ جس میں میرے ساتھ میری ہیروئن ماہیما چودھری، بھارتی اداکارہ علیشا اور دوسرے ڈانسر لڑکے اور لڑکیاں ہیں جبکہ سین صرف ماہیما چودھری کے ساتھ ہیں۔‘ گانے کے بول ہیں:- ہم نشیں او میرے نشیں اس سوال پر کہ انہیں بھارتی فلم میں کام کرنے کا چانس کیسے ملا انہوں نے کہا کہ یہ رول بھارتی سپر اسٹار سنجے دت کے لئے لکھا گیا تھا۔ مگر ان کے پاس چھ ماہ تک تاریخیں نہیں تھیں۔ فلم کے ڈائریکٹر پرڈیوسر ششی رنجن نے سوچا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات تو بہتر ہو ہی رہے ہیں کیوں نہ اس فلم میں پاکستانی فنکار کو کاسٹ کیا جائے۔ اس دوستی اور امن کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔
فلم دوبارہ میں اپنے رول کے حوالے سے معمر رانا نے بتایا کہ میرا رول فلم میں اس لئے بھی اہم ہے کہ جب میری انٹری ہوتی ہے تو فلم کی کہانی بدل جاتی ہے۔ فلم میں میری پہلی انٹری ایک ہوائی جہاز میں ہوتی ہے جہاں ماہیما چودھری سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ جہاز گوا جا رہا ہوتا ہے جب وہاں پہنچتا ہے تو میرا سوئمنگ پول پر ماہیما کے ساتھ سین ہے۔ فلم کی ریلیز کے حوالے سے معمر رانا نے بتایا کہ فلم دنیا بھر میں چھ یا سات جون کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر ڈائریکٹر ششی رنجن کوشش کر رہے ہیں کہ مئی کے آخر میں پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں اس فلم پر پریمئیر ہو جائے۔ وہ اس پریمئیر کی ساری آمد پاکستان کے کسی فلاحی ادارے کو دینا چاہتے ہیں۔
فلم کی شوٹنگ کے حوالے سے وینا ملک نے بتایا کہ ہم چار لوگوں نے، جن میں میرے علاوہ عرفان کھوسٹ، شیبا بٹ اور کوشی خان شامل تھے، فلم میں کام کرنا تھا۔ مگر کوشی خان اور کھوسٹ کے پاس ورک پرمٹ نہیں تھا اس لئے وہ شوٹنگ میں حصہ نہ لے سکے۔ میں نے تو چار دن تک شوٹنگ کی اور صرف وہ سین کئے جو ہیرو سربجیت چیمہ کے ساتھ تھے۔ اس کے بعد وہ شوٹنگ روکنا پڑی اور ہم لوگ واپس آگئے۔ اب عرفان کھوسٹ، کوشی خان اور شیبا بٹ نے ورک پرمٹ کے لئے درخواست دی ہے۔ جیسے ہی ویزے ملیں گے ہم دوسرے اور آخری سپیل کے لئے بھارت دوبارہ روانہ ہو جائیں گے۔ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ پہلی پاکستانی ایکٹریس ہوں جو باقاعدہ فلم میں کام کر رہی ہوں۔ اقبال ڈھلوں نے مجھے خود پیشکش کی اور جو معاوضہ دیا وہ پاکستانی فلم سے چار گنا زیادہ ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس فلم ’پنڈدی کڑی‘ میں میں ٹائٹل رول کر رہی ہوں۔ پوری ایک فلم ایک گاؤں کی لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ جس میں جذبات ہیں، کامیڈی ہے اور رومانس ہے۔ میں اس سکرپٹ سے بہت مطمئن ہوں۔ وینا نے بتایا کہ اس پنجابی فلم کا بجٹ سات کروڑ روپے ہے۔ وہاں کی اردو اور پنجابی فلم صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ ایک فلم میں اردو بولی جاتی ہے اور دوسری میں پنجابی۔ میں نے سوچا تھا کہ وہاں پر پنجابی فلموں کے لئے پاکستان کی طرح الگ ہیروئنیں ہو گئیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ جس پرڈیوسر کے ساتھ میں کام کر رہی ہوں اس کے ساتھ ایک پنجابی فلم جوہی چاؤلہ کے ساتھ کر رہی ہوں اور اگلی کرشمہ کپور کے ساتھ کر رہی ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||