BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2004, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریما کی پیشکش

ریما
پچاس کی دہائی میں جب میڈم نور جہان فلم ”چن وے” میں ایک ہدایت کارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں تو پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا کیونکہ وہ پہلی خاتون تھیں جو مردوں کا غلبہ رکھنے والی فلمی صنعت میں ہدایت کارہ کے رول میں نظر آئیں۔

بعد میں شمیم آراء، سنگیتا اور ثمینہ پیرزادہ سمیت متعدد اداکاراؤں نے ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمائی کی اور اپنی صلاحیتوں کا سکہ منوایا۔

فلمی دنیا کی انہی معروف خواتین کی پیروی کرتے ہوئے لالی وڈ کی ایک اور کامیاب ہیروئین ریما بھی ایک ہدایت کارہ اور فلمساز کی حیثیت سے فلمی میدان میں اتری ہیں۔

ان کی پہلی کاوش فلم ”کوئی تجھ سا کہاں” میں معمر رانا ریما کے مدمقابل ہیرو ہیں جبکہ فلم کے دیگر اداکاروں میں ندیم، وینا ملک، ببرک شاہ اور جاز گرل کی حیثیت سے پہچانی جانے والی ماڈل صوفیہ مرزا شامل ہیں۔

فلم کی کہانی اور مکالمے خلیل الرحمٰن قمر جبکہ گانے عقیل روبی نے لکھے ہیں۔ فلم کے موسیقار امجد بوبی ہیں۔

News image
ریما کا دعوی ہے کہ وہ سب سے مقبول اداکارہ ہیں

بی بی سی اردو ڈاٹ سے ایک انٹرویو میں اداکارہ ریما نے بتایا کہ اس فلم کی تمام تر شوٹنگ برطانیہ میں کی جائے گی جبکہ اس کے گانے ہندوستانی گلوکاروں اور گلوکاراؤں کی آواز میں ممبئی میں ریکارڈ کئے جائیں گے۔

پونے دو سو کے قریب اردو اور پنجابی فلموں میں جلوہ گر ہونے والی ریما حال ہی میں ایشیاء کے سب سے بڑے فلمی مرکز ممبئی کا دورہ کر کے واپس آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دورہ کے دوران ان کا مشاہدہ ان کے فلمی منصوبے کی کامیابی میں بہت کارآمد ثابت ہوگا۔

”اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹیلنٹ میں ہم کسی سے کم نہیں ہیں لیکن تیکنیکی اعتبار سے ہندوستانی فلمی صنعت ہم سے بہت آگے ہے۔ ہم آج بھی چھپن سالہ پرانے سازوسامان کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ بالی وڈ میں کام کرنے والوں کو فلمسازی کی جدید ترین سہولتیں میسر ہیں۔

News image
ریما ہدائت کاری کے میدان میں جوہر دیکھنا چاہتی ہیں

اداکارہ ریما نے اپنے خلاف ہونے والی اس تمام تر تنقید کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ فلمسازی اور ہدایت کاری کے میدان میں ان کی آمد کی بنیادی وجہ لالی وڈ کی ٹاپ ہیروئین کی حیثیت سے ان کی ناکامی ہے۔

”میں اب بھی پاکستانی فلم بینوں کی پسندیدہ تیرین ہیروئین ہوں جس کا سب سے بڑا ثبوت مجھے حال ہیں میں ایک بین الاقوامی فلم ساز ادارے کی طرف سے ملنے والا تشہیری مہم کا ملٹی ملین کنٹریکٹ ہے جس کے لئے مجھے رائے عامہ کے ایک جائزے کے بعد منتخب کیا گیا ہے۔

ریما نے گزشتہ سال ریلیز ہونے والی اپنی واحد فلم ”شرارت” کی کانامی کا ذکر کرتے ہوئے فلم میں جس رول کے لئے انہیں سائن کیا گیا تھا وہ کچھ اور تھا جبکہ فلم میں ادا کیا جانے والی رول کچھ اور تھا۔

جو رول مجھے دیا گیا اس میں اداکاری کے جوہر دکھانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی اور اگر کردار میں اداکاری کا کوئی مارجن ہی نہ ہو تو اس کے لئے اداکار یا اداکارہ کو مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے۔

ریما کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو تین سالوں میں ان کے زیادہ فلمیں نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان سالوں میں لالی وڈ میں بننے والی فلموں میں ہیروئین کے لئے اداکاری کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی۔

اگر آپ ان فلموں پر نظر ڈالیں تو آپ کو ہیرؤئین کا کردار ایک ثانوی حیثیت کا نظر آئے گا۔ دو چار گانے اور چند بھرتی کے سین اور بس۔ میں ہیروئین کے کردار کو فلم میں واپس لانا چاہتی ہوں اور اس لحاظ سے بارش کا وہ پہلا قطرہ بننا چاہتی ہوں جو لالی وڈ کی تپتی گلیوں کو مہکا دے اور فلم بینوں کے لئے راحت کا باعث بنے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد