کراچی: ملائکہ کی’چھیاں چھیاں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے عریبئن سی کنٹری کلب میں منعقد ہونے والے شو کے بارے میں شرکاء کی طرف سے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ شو میں شرکت کرنے والی ایک خاتون آمنہ کا کہنا ہے کہ انہیں شو دیکھ کر بہت مزا آیا۔ ’سارے ہی آئیٹم بہت اچھے تھے لیکن خاص طور سیف علی خان کا ڈسکو والے گانے پر رقص دیکھ کر بہت مزا آیا۔‘ ’یہ گانا لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے چاہا کہ یہ گانا دوبارہ پیش کیا جائے اور جب سیف علی خان نے سیاہ چشمہ اتار کر پھینکا تو لوگوں میں ہل چل مچ گئی۔‘ سیف علی خان نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ’میں اس دورے اور خاص طور پر لوگوں کی محبت پا کر بہت خوش ہوا ہوں‘۔ سیف علی خان نے کہا کہ فنکاروں پر بلکل دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ لوگوں کو یا شو منعقد کرنے والوں کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ’امن کے سفیر‘ بن جائیں بلکہ وہ تو فنکار ہیں اور ان کو فنکار ہی کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔ لوگوں نے باقی فنکاروں کی بھی بہت حوصلہ افزائی کی۔ سشمیتا سین تو اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اعلان کیا کہ ’اگر انہیں پھر کبھی پاکستان میں شو کرنے کا موقع ملےگا تو یہ پیش کش وہ بخوشی قبول کر لیں گی‘۔ سشمیتا سین جو صرف چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئیں تھیں انہوں نے کہا کہ ’ان کی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ پاکستان میں آئیں اور اچھے اچھے پاکستانی کھانے کھائیں، شاپنگ کریں اور سیروسیاحت سے لطف اندوز ہوں۔ جو مشاہیرشو کے موقع پر موجود تھے ان میں اداکار ہمایوں سعید، عدنان سمیع، بشریٰ انصاری، ٹیلی ویژن پروڈیوسر شہزاد نواز اور اداکار علی کاظمی شامل ہیں۔ جب ملائکہ نے یہ کہا کہ کیا کوئی ان کے ساتھ سٹیج پر رقص کرنا چاہتا ہے تو علی کاظمی نے خود کو ڈانس پارٹنر کے طور پر پیش کیا۔ ملائکہ نے جس گانے پر اختتام کیا وہ ’چھیاں چھیاں‘ تھا۔ لیکن اس سے پہلے گانے پر جو کہ ’ماہی وے‘ تھا اس پر ساؤنڈ سسٹم خراب ہو گیا تھا۔ عدنان سمیع تو گویا سشمیتا کے سحر میں اس قدر کھو گئے تھے کہ سشمیتا سین کے لباس پر لگے ہوئے بلب کی روشنیوں نے انہیں اِدھر اُدھر نظر اٹھانے کا موقع ہی نہ دیا اور انہوں نے کہا کہ بلا مبالغہ سشمیتا سین پہلے سے بھی کہیں زیادہ پر کشش اور خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سشمیتا سین شو کے دوران سٹیج سے نیچے اتر گئیں اور وہ لوگوں سے گُھل مِل کر ان سے گفتگو کی اور داد بھی وصول کی۔ سیف علی خان نے فون پر اپنی والدہ کو اپنی پرفارمنس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہ انہیں بھی وہاں موجود ہونا چاہیے تھا۔ اس شو سے متعلق ایک پبلک سروے بھی کیا گیا جن میں مختلف لوگوں سے اس شو کے بارے میں رائے طلب کی گئی۔ خدیجہ اور ان کی دوستوں نے اپنی پاکٹ منی سے پانچ ہزار روپے کے ٹکٹ خریدے ہوئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ان کو سیف علی خان کا ڈانس بہت پسند آیا لیکن سیف کے کپڑے پسند نہیں آئے کیونکہ سیف علی خان نے بہت چمکیلے اور بھڑکیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ناظرین کا اجتماع اچھا نہ تھا لیکن تمام آئٹم بہت اچھے تھے۔ شو کے منتظم اعلیٰ عادل خان نے کہا کہ شو ان کی توقع سے بڑھ کر تھا کیونکہ تمام فنکاروں نے دل سے کام کیا اور یہ سوچ کر کام نہیں کیا تھا کہ وہ صرف شہرت یا پیسے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کراچی والوں کو سامنے پاکر اور داد دیتے دیکھ کر انہیں دلی خوشی ہوئی ہے۔ شو کے ایک اور منتظم فخر عالم کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ایسے مزید شوز کروائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||