گلگت: کشیدگی، 3 مزید ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت میں ہفتے کو قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے عالم دین آغا ضیاالدین رضوے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی کے فوجی ہسپتال سی ایم اچ منتقل کر دیا گیا ہے۔ شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ آغا ضیاالدین کا علاج سرکاری طور پر کیا جائے گا۔ ضیاالدین کی حالت کے بارے میں حکام کچھ کہنے سے گریزاں ہیں مگر پینتالیس سالہ ضیاالدین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کو سر میں دو گولیاں لگی ہیں جس کے بعد سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ادھرگلگت میں ہفتے کو ہونے والے ہنگاموں میں مرنے والوں کی تعداد چودہ ہو گئ ہے جبکہ شہر میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت کے ایک میڈیکل آفیسر کے مطابق تین مزید افراد نے کل رات سے آج تک دم توڑا ہے۔ اب تک ہلاک ہونے والے چودہ افراد میں حکومت کے ایک افسر اور اس کو خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن کو مشتعل ہجوم نے جلا کرہلا کر دیا۔ اے ایف پی نے کہا ہے کہ شیعہ رہنما کے حامیوں نے املاک نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے دوران محکمہ صحت کے ایک افسر کو گولی ماری جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹر اور اے ایف پی کے مطابق تشدد دوسرے علاقوں تک پھلتا جا رہا ہے اور سکردو اور کریم آباد میں بھی مظاہرے ہوئے ۔ لیکن وہاں کسی ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاح نہیں ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ہنزہ میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو آگ لگائے جانے اور سکردو میں مظاہرین کی طرف سے سڑک بلاک کرنے اور ٹائر جلائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات نے بتایا ہے کہ کرفیو اس وقت جاری رہے گا جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ یادرہے کہ سنیچر کے روز تشدد کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شیعہ رہنما آغا ضیاالدین پر حملے کے بعد ان کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر کھلم کھلا فائرنگ کی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||