گلگت کے لیے مزید فوجی دستے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ ہو چکی ہے لیکن ابھی تدفین محض ایک ہلاک ہونے والے کی ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی نعشیں اسپتال میں رکھی ہیں اور انہیں اس لیے ورثاء کے حولے نہیں کیا جا رہا کہ کشیدگی مزید نہ بڑھ جائے۔ مقامی ذرائع کے کا کہنا ہے کہ مزید فوجی دستے آ رہے ہیں جن کی آمد کے بعد ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گے اور ان کی تدفین کرائی جائے گی۔ اس سے قبل ملنے والے اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ گلگت میں سنیچر کو قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے عالم دین آغا ضیاالدین رضوی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی کے فوجی ہسپتال سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔ شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ آغا ضیاالدین کا علاج سرکاری طور پر کیا جائے گا۔ ضیاالدین کی حالت کے بارے میں حکام کچھ کہنے سے گریزاں ہیں مگر پینتالیس سالہ ضیاالدین کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کو سر میں دو گولیاں لگی ہیں جس کے بعد سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت کے ایک میڈیکل آفیسر کے مطابق تین مزید افراد نے کل رات سے آج تک دم توڑا ہے۔ اب تک ہلاک ہونے والے چودہ افراد میں حکومت کے ایک افسر اور اس کو خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن کو مشتعل ہجوم نے جلا کرہلاک کر دیا تھا۔ اے ایف پی نے کہا ہے کہ شیعہ رہنما کے حامیوں نے املاک نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے دوران محکمہ صحت کے ایک افسر کو گولی ماری جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹر اور اے ایف پی کے مطابق تشدد دوسرے علاقوں تک پھلتا جا رہا ہے اور سکردو اور کریم آباد میں بھی مظاہرے ہوئے ۔ لیکن وہاں کسی ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ہنزہ میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو آگ لگائے جانے اور سکردو میں مظاہرین کی طرف سے سڑک بلاک کرنے اور ٹائر جلائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات نے بتایا ہے کہ کرفیو اس وقت جاری رہے گا جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ یادرہے کہ سنیچر کے روز تشدد کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شیعہ رہنما آغا ضیاالدین پر حملے کے بعد ان کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر کھلم کھلا فائرنگ کی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||