آزادی یا سانحہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تینتیس سال سے ایک رسم ہے کہ ہر سال سولہ دسمبر کو پاکستان کے ٹوٹنے اور مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش کی ریاست بن جانے کے واقعہ کی برسی زور وشور سے منائی جاتی ہے۔ اس واقعہ کو کبھی یوم سقوط مشرقی پاکستان کہا جاتا ہے ، کبھی سانحہ مشرقی پاکستان اور کبھی سقوط ڈھاکہ۔ یہ پاکستان کے اخبارات کے لیے سانحہ تھا یا سقوط لیکن اسے بنگلہ دیش میں یوم آزادی کہا جاتا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں جگہ جگہ سیمینارز ہوتے ہیں جن میں مقررین ہر سال تقریبا ایک جیسی باتیں دہراتے ہیں اور شیخ مجیب الرحمن ، ذوالفقار علی بھٹو ، ایوب خان ، یحیی خان اور انڈیا کے کردار پر رائے زنی کرتے ہیں اور عالمی سازشوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ان محرومیوں اور شکایات کا تجزیہ کیا جاتا ہپے جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے عوام و خواص کو پاکستان کے طاقتور حکمران طبقہ سے تھیں۔ آج بھی لاہور میں چار سیمینار اسی موضوع پر منعقد ہوئے۔
پاکستان کے اخبارات کا سولہ دسمبر کے تاریخی دن کے حوالہ سے رویہ دلچسپ ہے کہ انگریزی اخبارات میں تو اس کا ذکر ڈھونڈے نہیں ملتا اور لگتا ہے ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اردو اخبارات اس پر انٹرویوز اور رنگین ضمیموں سے بھرے نطر آتے ہیں۔ تاہم یہ اخبارات جو مشرقی پاکستان میں نو ماہ تک ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران میں وہاں ہونے والے واقعات کی مکمل اور درست خبریں اپنے قارئین تک نہ پہنچا سکے آج اپنے طرز عمل اور اس واقعہ کے رونما ہونے میں میڈیا کے کردار کا کبھی تجزیہ نہیں کرتے۔ آج تین انگریزی روزناموں ۔ دی نیشن ، دی نیوز اور ڈیلی ٹائمز میں اس موضوع پر نہ کوئی اداریہ لکھا گیا ہے، نہ کوئی مضمون ہے اور نہ کوئی کالم یا انٹرویو۔ صرف ڈان نے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ دوسری طرف اردو اخبارت نے صفحہ اول پر اس واقعہ کے حوالہ سے نہ صرف انٹرویوز شائع کیے ہیں بلکہ الگ سے رنگین صفحات پر اس موضوع پر مضامین اور انٹرویوز چھاپے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان صفحات میں کہیں فوج کی ان زیادتیوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا جو اس نے نو ماہ کے آپریشن کے دوران میں مشرقی پاکستان کے عوام سے روا رکھیں اور جن کا تفصیلی ذکر حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اور بریگیڈئر اے آر صدیقی کی حال میں چھپنے والی کتاب میں ملتا ہے۔
جنگ میں پہلے صفحہ پر سیاستدانوں ، وکیلوں اور کاروباری حضرات کی آراء پر مشتمل ایک فیچر چھپا ہے جس کی سرخی ہے کہ سقوط ڈھاکہ سے سبق نہیں سیکھا گیا، از سر نو انکوائری ضروی ہے۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، آج حالات پھر وہی ہیں۔‘ جنگ کے ادارتی صفحہ پر کالم نگار نذیر ناجی نے ایک کالم لکھا ہے جس میں انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالہ سے دائیں بازو کے سیاستدانوں اور مذہبی جماتوں کو رگیدا ہے۔ دوسرے کالم نگار ارشاد احمد حقانی نے اس موضوع پر شاعرہ شاہدہ حسن کی طویل اردو نظم وفا کا نوحہ شائع کی ہے۔ اس نظم میں بالواسطہ طور پر فوج پر اس طرح تنقید کی گئی ہے کہ اہم اور بڑے قومی واقعات پر خاموشی کے رویہ کو ہدف بنایا گیا ہے اور کارگل کی جنگ، اوجڑی کیمپ ، جنرل ضیاالحق کے طیارہ کی تباہی اور لیاقت علی خان کے قتل پر چپ کے بیز پردے پڑے رہنے پر ملامت کی ہے۔ نوائے وقت دائیں بازو کے ان اخبارات میں ہے جو دو قومی نظریہ کا علمبردار ہے اور جس نے بنگلہ دیش کے قیام میں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو ماضی میں خاصا اچھالا۔ اس بار اخبار نے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی سیاستدان محمود علی کا انٹرویو شائع کیا ہے اور ان کی اس بات کو سرخی بنایا ہے کہ بنگالی علیحدگی نہیں چاہتے تھے اور یہ دعوی کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ون نیشن ٹو سٹیٹس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دست و بازو بن سکتے ہیں۔ محمود علی نے نوائے وقت سے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کے ذمہ دار یحیی خان اوروہ قوتیں ہیں جو جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتیں۔ یہاں پر کھل کر فوج کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ بہرحال بھٹو خوش قسمت ہیں کہ انہیں بالآخر دائیں بازو کے ایسے اخبار میں جو ان کا شدید مخالف رہا ہے اپنی معصومیت کی سند مل گئی۔ نوائے وقت نے اپنے رنگین ضمیمہ میں بھٹو کو معاف نہیں کیا اور ان کی تصویر اندرا گاندھی، مجیب الرحمن اور یحیی خان کے ساتھ لگائی ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ آج نوائے وقت نے دو جگہوں پر وہ تاریخی تصویر شائع کی ہے جس میں فوج کے مشرقی پاکستان میں کمانڈر جنرل اے کے نیازی کو ہتھیار ڈالتے ہوئے بھارتی جنرل اروڑا کے ساتھ بیٹھے دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کا پاکستان کےکسی بڑے اردو روزنامہ میں اس طرح نمایاں طور شائع ہونا بدلتی ہوئے ذہنوں اور حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے اس کا سوچنا محال تھا۔ روزنامہ پاکستان نے بھی دوسرے اردو اخباروں کی طرح اسی بات کو خبر کے طور پر شائع کیا ہےکہ سقوط ڈھاکہ کا سبب بننے والے حالات کا تسلسل آج بھی قائم ہے۔ یہ گویا فوجی حکومت پر ایک بالواسطہ تنقید ہے۔ پنجاب کے اخبارات میں ایسی بات کا شائع ہونا ایک نئی بات ہے۔ روزنامہ پاکستان کے رنگین صفحہ پر محمود علی کا جو تفصیلی انٹرویو شائع ہوا ہے اس میں انہوں نے کھل کر صدر جنرل جنرل ایوب خان کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دلائل دیے ہیں اور بتایا ہے کہ مجیب الرحمن کو چھ نکات ایوب خان کے مغربی پاکستان کے گورنر امیر کالا باغ نے دیے تھے اور ا سکا مقصد بحالی جمہوریت کی تحریک سے توجہ ہٹانا تھا اور لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ سیاستدان تو ملک توڑنا چاہتے ہیں اور وہ (ایوب خان) ہی ہیں جو اس ملک کو یکجا رکھ سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے موقع پر یہ بات تجزیہ طلب ہے کہ پنجاب کے اخبارات کا فوجی حکومت کے بارے میں رویہ کیوں بدلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کیا یہ اس لیے ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا تعلق پنجاب سے نہیں اور پنجابی حکمران نواز شریف کو اقتدار سے معزول کرکے اقتدار میں آئے یا اس لیے ہے کہ جنرل مشرف بظاہر دائیں بازو کے اس ایجنڈے کے خلاف کام کررہے ہیں جو پنجاب کے نمائندہ اردو اخبارت کا ایجنڈا بھی ہے یا اس لیے کہ پنجاب کا متوسط طبقہ اور کاروبای طبقہ خاصا بالغ ہوگیا ہے اور اس کے مفادات فوج کے مفادات سے ٹکرا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||