’عظیم ترین بنگالی: شیخ مجیب الرحمٰن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی بنگالی نشریات کے سامعین نے بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم اور خالق شیخ مجیب الرحمن کو عظیم ترین بنگالی منتخب کیا ہے۔ فروری اور مارچ کے دوران کئے گئے ایک ریڈیو سروے میں لوگوں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان پانچ بنگالیوں کے نام تجویز کریں جنہیں وہ عظیم سمجھتے ہیں۔ اس سروے کو غیر جانبدار اور حقیقت پر مبنی رکھنے کے لئے کئی طریقے اختیار کئے گئے۔ انیس سو پچھتر میں قاتلوں کی گولیوں کے شکار بنگلہ دیش کے خالق شیخ مجیب الرحمٰن نے نوبل انعام یافتہ شاعر، مصنف اور ڈرامہ نویس رابندر ناتھ ٹیگور کو با آسانی پیچھے چھوڑ دیا۔ سامعین کے اس انتخاب میں جن عظیم شخصیات کے نام آئے ان میں موجودہ وزیر اغظم کے شوہر ضیاء الرحٰمن بھی شامل ہیں جن کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر عمرانیا ت امریتہ سین بھی ان بیس عظیم شخصیات میں چودہویں نمبر پر رہے۔ یہ واحد شخصیت ہیں جو بقید حیات ہیں۔ ’پاتھ پنجلی اور ’شطرنج کے کھلاڑی‘ جیسی فلموں کے خالق ستیہ جیت رے نے تیرہواں نمبر حاصل کیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو، جنہیں بنگلہ بندھو کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، انیس سو اکہتر میں پاکستان سے آزادی دلانے کا اعزاز دیا جاتا ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر فائز رابندر ناتھ ٹیگور کو بنگلہ زبان کا شیکسپیئر کہا جاتا ہے۔ وہ بنگلہ دیش اور ہندوستان دونوں ہی ملکوں میں نہایت محترم اور محبوب ہیں۔ بی بی سی کے اس سروے میں سامعین کی شعراء سے محبت بھی نمایاں ہوئی۔ انہوں نے عظیم انقلابی شاعر نذرالاسلام کو اس فہرست میں تیسرے نمبر پر فائز کیا ہے۔ قاضی نذرالاسلام نے اپنی انقلابی نظموں کی پاداش میں برطانوی حکمرانوں کے ہاتھوں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
سامعین کے اس سروے میں بیس عظیم ترین ہستیوں میں صرف ایک خاتون رقیہ سخاوت حسین کا نام شامل ہوا جن کا نام چھٹے نمبر پر ہے۔ انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم خواتین کے لئے تعلیم کی شروعات کر کے معاشرتی اقدار کے شکنجے کی تکالیف اٹھائیں۔ عظیم ترین بنگالیوں کی فہرست میں کچھ معاشرتی بہبود کی لئے کام کرنے والے اور انقلابیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سبھاش چندر بوسبھی شامل ہیں جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی اقتدار کے خلاف مسلح بغاوت کی تھی۔اس فہرست میں وہ پانچویں نمبر پر فائز ہوئے۔ معاشرتی سدھار اور ماہر تعلیم ایشور چندر وِدِتا ساگر کو آٹھواں مقام حاصل ہوا۔ انہوں نے ہندو معاشرہ میں ذات پات کے فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ انیسویں صدی میں برطانوی اقتدار کے خلاف بغاوت کرنے والے تیتو میر کا نام گیارہویں نمبر پر رہا۔ جگدیش چندر باسو کو ساتواں مقام حاصل ہوا۔ اس ریڈیو سروہ میں سو سے زیادہ بنگالی شخصیات کے نام سامنے آئے اور عظیم ترین بیس شخصیتوں کی فہرست سامعین کی اولیت کے پیش نظر دیئے گئے نمبروں کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔ بنگلہ دیش اور مشرقی بنگال میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بی بی سی بنگلہ نشریات کو سنتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||