بنگلہ دیش میں ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ کی اپیل پر ملک بھر میں ہڑتال کی وجہ سے کاروبار اورمواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بنگلہ دیش میں حزب اختلاف عوامی لیگ کی طرف سے گزشتہ تین دنوں میں ہڑتال کی یہ دوسری اپیل تھی۔ اس ہڑتال کے دوران دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے احتجاج اور پتھراو کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ عوامی لیگ کے کارکن عبدالجلیل نے کہا کہ جمعرات کوہونے والے احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج سے سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ عوامی لیگ وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو ہٹانے اور جلد انتخابات کرانے کے لیے احتجاج کررہی ہے۔ آئین میں مقررہ کردہ حد کے مطابق بنگلہ دیش میں اکتوبر دو ہزار چھ میں الیکشن ہوں گے۔ جمعرات کو پولیس اور عوامی لیگ کے کارکنوں میں ہونے والے تصادم میں پارٹی کے انتظامی سیکریٹری صابر حسین چوہدری بھی زخمی ہوگئے تھے۔ صابر حسین چوہدری کو سرمیں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا۔ عوامی لیگ کی اپیل پر کی جانے والی ہڑتال میں ٹرانسپورٹر بھی شامل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اشیاِ ضرورت کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||