| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمدی مسجد پرحملہ، پچاس زخمی
ڈھاکہ میں پولیس اور ایک سخت گیر اسلامی جماعت کےحامیوں کے درمیان جھڑپ میں پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب سینکڑوں افراد کے ہجوم نے احمدی فرقے کی ایک مسجد پر حملہ کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بھیڑ قریب ہی واقع ایک مسجد سے جمعہ کی نماز کے بعد نکلی اور احمدیوں (یا قادیانی) کو ان کی مسجد سے زبردستی نکالنے کی کوشش کی۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمل کی۔ اس ہجوم نے بعد میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کر دیا اور سڑک پر موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی۔ پولیس نے کہا کہ اس کے بارہ اہلکار زخمی ہوگئے۔ مقامی مذہبی رہنما محمود الحسن ممتاجی نے، جو مبینہ طور پر مشتعل ہجوم کی سربراہی کر رہے تھے، کہا کہ وہ اس مسجد پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قادیانی غیر مسلم ہیں اور انہیں مسجد استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘ تازہ ترین واقعے سے قبل جمعرات کو احمدیوں کی مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جسے پولیس نے ناکام بنادیا تھا۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ ایک ماہ میں احمدیوں کے خلاف کئی بار حملے ہوئے ہیں۔ ملک میں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے اور قادیانیوں کی آبادی تقریباً ایک لاکھ ہے۔ مغربی ضلع جسور میں اس ماہ کے شروع میں ایک قادیانی رہنما کو قتل کر دیا گیا تھا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مطالبات کو حکومت نے اب تک نظر انداز کیا ہے۔ واضح رہے پاکستان میں انہیں پہلے ہی غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||