ضیاء الدین کا انتقال، گلگت کشیدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہو جانے والے شیعہ رہنما آغا ضیاءالدین جمعرات کو راوالپنڈی میں فوج کے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ انہیں ہفتے کے روز زخمی حالت میں یہاں لایا گیا تھا۔ آغا ضیاء الدین کا جسدِ خاکی ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں گلگت روانہ کر دیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق علاقے میں صورتِ حال سخت کشیدہ ہوگئی ہے اور خدشہ ہے کہ لوگ کہیں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھروں سے باہر نہ آجائیں۔ ادھر تحریک جعفریہ نے بھی جمعہ کے روز پر امن احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ مسلک کے رہنما حملے اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں اب تک چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج گشت کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں ابھی تک چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حکومت کے ایک افسر اور اس کو خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن کو مشتعل ہجوم نے جلا کرہلاک کر دیا۔ آغا ضیاالدین پر حملے کے بعد ان کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر کھلم کھلا فائرنگ کی تھی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||