BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 January, 2005, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضیاء الدین کا انتقال، گلگت کشیدہ
News image
گلگت میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہو جانے والے شیعہ رہنما آغا ضیاءالدین جمعرات کو راوالپنڈی میں فوج کے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ انہیں ہفتے کے روز زخمی حالت میں یہاں لایا گیا تھا۔

آغا ضیاء الدین کا جسدِ خاکی ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں گلگت روانہ کر دیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق علاقے میں صورتِ حال سخت کشیدہ ہوگئی ہے اور خدشہ ہے کہ لوگ کہیں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھروں سے باہر نہ آجائیں۔

ادھر تحریک جعفریہ نے بھی جمعہ کے روز پر امن احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

شیعہ مسلک کے رہنما حملے اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں اب تک چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج گشت کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں ابھی تک چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حکومت کے ایک افسر اور اس کو خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن کو مشتعل ہجوم نے جلا کرہلاک کر دیا۔

آغا ضیاالدین پر حملے کے بعد ان کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر کھلم کھلا فائرنگ کی تھی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد