BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 December, 2004, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشورہ پرحملے کے اثرات ابھی بھی

News image
بلوچستان میں اس سال کے آغاز میں عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملے کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا تے ہیں۔

دو مارچ کی صبح لیاقت بازار کی ایک دوکان کی بالکونی سے دو افراد نے دس محرم یعنی عاشورہ کے پر ہجوم جلوس پر بم پھینکے اور فائرنگ کر دی جس سے لگ بھگ پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد ہر طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ چھتوں پر موجود ایف سی اور انسداد دہشت گردی کی فورس کے اہلکاروں کے علاوہ جلوس میں شامل افراد نے بھی فائرنگ کی جس وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

اس کے بعد شہر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ سینکڑوں دکانیں اور عمارتیں جلا دی گئیں۔ کئی دکانیں لوٹ لی گئیں جس کے بعد شہر میں کر فیو نافذ کر دیا گیا جو دو ہفتوں تک جاری رہا۔

اسی دوران کچھ مظاہرین نے ایک دینی مدرسے کو گھیرے میں لے لیا جس میں طلباء اور اساتذہ موجود تھے یہ لوگ خوف کے مارے ایک کمرے میں بند ہو گئے۔ مدرسے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

News image
بلوچستان میں سائیکل بم دھماکوں سے کئی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان فسادات میں سینکڑوں دکانوں کو جلا دیا گیا اور کئی کو لوٹ لیا گیا۔ جس پر صوبائی حکومت نے جن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا انھیں کروڑوں روپے ہرجانہ ادا کیا۔

اس کے بعد حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کو واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ تو پیش کر دی لیکن ذرائع ابلاغ کو صرف اتنا بتایا گیا کہ پولیس کارکردگی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

جن عینی شاہدین سے صحافیوں کی ملاقاتیں ہوئیں انھوں نے کہا تھا کہ اس واقعہ میں ایف سی اور انسداد دہشت گردی کی فورس کے اہلکار مسلسل فائرنگ کرتے رہے جس سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

اس سے پہلے سن دو ہزار تین میں اسی طرح ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی تھی لیکن ذرائع ابلاغ تک یہ پیغام پہنچا کہ اس رپورٹ میں پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات انیس سو ننانوے سے شروع ہوئے اور سن دو ہزار چار تک کل ایک سو پینتیس افراد ہلاک اور دو سو اکہتر زخمی ہوئے۔ اکثر واقعات میں انفرادی وارداتیں کی گئی ہیں لیکن سن دو ہزار تین میں امام بارگاہ اثناء عشریہ اور پولیس کیڈٹس پرحملوں کے علاوہ اس سال عاشورہ کے جلوس پر حملہ نمایاں رہے ہیں۔

ان واقعات میں ہلاک ہونے والے کئی افراد اپنے اپنے گھرانوں کے واحد کفیل تھے ۔ ان کی ہلاکت کے بعد کئی خاندان ان دنوں در بدر ہیں۔ ایک ریٹائرڈ سیکشن افسر نے بتایا کہ اس کا

میرا نوجوان بیٹا اس کا واحد سہارا تھا اب وہ نہیں رہا ۔وہ کچھ کر تو نہیں سکتا لیکن حکمرانوں کو بدعائیں ضرور دیتا رہے گا۔
ریٹائرڈ سیکشن آفیسر جس کا بیٹا بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا
نوجوان بیٹا اس کے لیے واحد سہارا تھا اب وہ نہیں رہا ۔ لہذا وہ کچھ کر تو نہیں سکتا لیکن حکمرانوں کو بدعائیں ضرور دے سکتا ہے کہ جو اس کے ساتھ ہوا ہے وہ ان کے ساتھ بھی ہو۔ اس کے علاوہ ان واقعات میں کئی عورتیں بیوہ ہو گئیں اور کئی بچے یتیم ہو گئے۔

اس سال پچیس ستمبر کو کوئٹہ میں نا معلوم افراد نے ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا جس میں تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے بعد میں ایک نوجوان کریم شاہوانی کو گھر سے نکال کر گولی ماردی۔ لوگوں نے کہا ہے کہ کریم کو بے گناہ مارا گیا ہے اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ اہل محلہ دو روز تک کریم شاہوانی کی لاش سڑک پر رکھ کر بیٹھے رہے اور نعرہ بازی کی۔ بعد میں پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی پر کریم شاہوانی کو دفن کیا گیا۔

اس سال بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اغوا اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔

کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے اس بارے میں انکوائری کا حکم دیا گیا ہے اور اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں مذہبی بنیادوں پر قتل اور حملوں کے حوالے سے انھوں نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں ملوث بیشتر افراد گرفتار ہیں جبکہ ایک ملزم عثمان سیف اللہ ابھی تک فرار ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ انیس سو ننانوے میں داؤد بادینی عثمان سیف اللہ۔ سیف اللہ بلوچ عبدالکریم کرد وغیرہ افغانستان سے تربیت حاصل کرکے یہاں آئے اور ریاض بسرا کے ساتھ کام کیا۔ انھوں نے مختلف گینگ بنائے جنہوں نے بلوچستان میں وارداتیں کیں۔ ان میں سے کچھ گینگ توڑ دیے گئے اور اہم اراکین جیسے عبدالکریم کرد سیف اللہ بلوچ شمیم محمد وغیرہ گرفتار ہوئے جنہیں عدالت سے موت کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ اس سال ستمبر میں داؤد بادینی کو گرفتار کر لیا گیا جس نے عدالت میں تمام اہم واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کہ داؤد بادینی نے دورانِ تفتیش بتایا ہے کہ وہ اور ا س کے ساتھی آٹھ جون دو ہزار تین کو پولیس کیڈٹس اور چار جولائی دو ہزار تین کو امام بارگاہ پر حملہ میں ملوث تھے جس کے لیے انھوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔

بلوچستان خصوصا کوئٹہ میں مذہبی بنیادوں پر حملوں کے بعد آج بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ لوگ بھیڑ بھاڑ میں جانے سے کتراتے ہیں ۔ اکثر لوگوں نے بتایا ہے کہ انھیں اب شہر میں گھومتے ہوئے خوف آتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد