ضیاء الدین رضوی سپرد خاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت کے شیعہ رہنما آغا ضیاء الدین رضوی کو، جمعہ کو گلگت کی امامیہ مسجد کے احاطے میں سپردِ خآک کر دیا گیا انہیں گزشتہ ہفتے ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کو انتقال کر گئے۔ ہزاروں افراد نے کرفیو کے باوجود آغا ضیاء الدین کی تدفین میں شرکت کی۔ جبکہ مذہبی رہنماؤں اور مقامی حکام کی اپیل پر ہنزہ اور نگر سے گلگت پہنچنے والے ہزاروں افراد کو تدفین میں شرکت کیے بغیر ہی واپس کر دیا گیا۔ گلگت اور اسکردو میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی ہے۔ آغا ضیاء الدین کی نماز جنازہ تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے پڑھائی اور اس موقع پر لوگوں نے نعرے لگائے اور حکومت سے آغا ضیاء الدین کے قاتلوں کو جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ آغا ضیاء الدین کی میت کو جمعہ کی دوپہر راولپنڈی سےایک فوجی ہیلی کاپٹر میں گلگت لے جایا گیا۔ اس موقع پربھاری تعداد میں نیم فوجی دستوں کو امامیہ مسجد کے گرد تعینات کیا گیا تھا۔ شمالی علاقہ جات کے وزیر فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت کے علاوہ اسکردو میں بھی کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت ،ہنزہ،چلاس اور اسکردو میں فوج اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان علاقوں میں آغا ضیاء الدین کی ہلاکت پر لوگوں کارد عمل فطری ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایاجائے گا کہ وہاں کوئی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات نہ ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||