صدر کے خلاف درخواست مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف اور فوج کے حاضر سروس اور سابق جرنیلوں کے ’احتساب‘ کے لیے دائر رٹ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔ پاکستان لائرز فورم نے اراضی کی الاٹمنٹ اور ماورائے آئین اقدامات کی بنیاد پر جنرل پرویز مشرف اور پاک فوج کےمتعدد حاضر سروس اور سابق فوجی افسروں کے خلاف نیب آرڈیننس اور آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف سمیت ایک سو گیارہ جرنیلوں نے بہاولپور اور رحیم یار خان میں چار سو پلاٹ ساڑھے سینتالیس روپے فی کنال کے عوض حاصل کیے جبکہ مارکٹ میں ان کی قیمت پندرہ ہزار روپے سے بیس ہزار روپے فی کنال ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کے روز پاکستان لائرز فورم کی طرف سے ایڈوکیٹ اے کے ڈوگر کے طویل دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ ہائی کورٹ آفس اور سنگل بینچ کا اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض درست ہے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ اس طرح کا حکم اس کے دائرہ کار سے باہر ہے کہ جرنیلوں کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں تو ان پر نیب مقدمہ چلائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||