’انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے کمیشن نے منگل کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت سے تنگ آ کر ایک ہزار سے زائد لوگوں نےگزشتہ سال کے پہلے دس ماہ میں خودکشی کی جبکہ اتنی ہی تعداد میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال فرقہ وارانہ تشدد اور بد امنی میں گزشتہ سالوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی پامالی بدستور جاری ہے اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ کمیشن نے قانون سازوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے قانون سازی میں عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا اور لوگوں کی فلاح کے لئے قانون نہیں بنائے۔ کمیشن کے عہدیداران نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ فوج نے صحافیوں کے علاوہ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو بھی وزیرستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2004 میں 394 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ جبکہ پندرہ افراد کو پھانسی دی گئی۔ رپورٹ میں جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بتایا گیاہے کہ پچاسی ہزار افراد کو، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ملک کی 89 جیلوں میں رکھا گیا ہے اور جیلیں قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ پاکستانی حکام کو معاہدوں کے باوجود سینکڑوں بھارتی ماہی گیروں کو پکڑنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ ہزاروں خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 42 خواتین پر تیزاب پھینکا گیا جبکہ 19 خواتین کو سرعام برہنہ کیا گیا۔ اسی طرح بچوں پر تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سال کے پہلے چھ مہینوں میں 823 بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن نے دعوٰی کیا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کڑور بچے مزدوری کرتے ہیں جبکہ صرف کراچی میں گھر سے بھاگے ہوئے بچے شہر کی گلیوں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں اور نشہ کی لت میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینکڑوں بچوں کو خلیجی ممالک میں اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کرنے کے لئے اسمگل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے ہے اور پاکستان کا تعلیمی بجٹ بھی خطے میں سب سے کم ہے۔ صحت کے شعبے میں کمیشن کا کہنا ہے کہ اڑتیس فی صد پانچ سال سے کم عمر بچے اور مجموعی طور پر ملک کی انیس فی صد آبادی ناکافی خوراک کا شکار ہے۔ ملک کے عدالتی نظام پر بھی کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے اور کمیشن کا دعوٰی ہے کہ ملک میں عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم نہیں کر رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||