سندھ: اغواء ہونے والے جج رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور سے اغواء ہونے والے دو ایڈیشنل سیشن ججوں میں سے ایک پراسرار طور پر سات ہفتوں سے زیادہ عرصے کے بعد رہا ہوگئے ہیں جبکہ دوسرے کی رہائی کسی وقت بھی متوقع ہے۔ ڈپٹی انسپیکٹر جنرل سکھر پولیس رمضان چنہ نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے ایک جج عبدالوہاب عباسی کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرے مغوی جج فاروق چنا بھی رہا ہوجائیں گے۔ حکام کے مطابق ڈاکو شمن جتوئی کے گروہ نے تین دسمبر کو لاڑکانہ سے شکارپور آتے ہوئے تین ججوں کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک جج آفتاب احمد بگھیو کو ڈاکوؤں نے بیماری کے باعث اغواء کرنے کے کچھ دیر بعد ہی چھوڑ دیا تھا جبکہ عبدالوہاب عباسی اور فاروق چنا کو اغواء کرکے لے گئے تھے۔ ڈی آئی جی پولیس نے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ پولیس کے دباؤ کے نتیجے میں یہ جج بازیاب ہوئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ متعلقہ ججوں کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ تاوان دے کر رہا ہوئے ہیں تو پولیس افسر نے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان ججوں کو سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں واقع جنگلات میں رکھا گیا تھا۔ رمضان چنا نے بلوچستان پولیس کی جانب سے مکمل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ججوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے متعلقہ ڈاکوؤں کے قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کرکے ان پر دباؤ ڈالا جس سے ججوں کی رہائی ممکن بنی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||