ججوں کا اغواء:ضلع کی ناکہ بندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور سے اغواء کیے جانے والے دو ججوں کی بازیابی کے لیے پولیس نے پورے ضلع کی ناکہ بندی کر دی ہے لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ شکار پور میں ججوں کے اغواء اور ضلع میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر احتجاج اور ججوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ضلع بھر میں ہفتے کو وکلاء برادری نے ہڑتال کی۔ جمعہ کی رات کو شکار پور سے لاڑکانہ جاتے ہوئے تین ایڈیشنل سیشن ججوں کو اغواء کر لیا گیا تھا۔ اغواء کیے جانے والے تین ججوں میں سے ایک جج آفتاب احمد بگھیو کو ڈاکوؤں نے کچھ دیر کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ اغوا ہونے والے دیگر دو ججوں کے نام فاروق علی چنّا اور عبدالوحاب عباسی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تینوں جج سرکاری گاڑی پر سفر کر رہے تھے۔ ڈاکو سرکاری گاڑی کو سڑک پر ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس کو سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی دیکھ کر واردات کے بارے میں علم ہوا۔ شکارپور کے سیشن جج غلام علی نے بی بی سی کو بتایا کہ واردات کی اطلاع ملنے پر ضلعی پولیس افسر موقع پر پہنچے اور جائے واردات سے کچھ فاصلے پر انہیں جج آفتاب احمد بگھیو مل گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر دونوں ججوں کی بازیابی کے لیے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سیشن جج نے بتایا کہ اغوا کی یہ واردات انتقامی کارروائی کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واردات علاقے میں جاری اغوا کی کارروائیوں کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ سیشن جج نے کہا کہ اغوا کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں سنے جاتے ہیں اور سیشن عدالتوں میں نہیں آتے۔ کچھ روز قبل شکارپور سے تین ہندو لڑکوں کو اغوا کر لیا گیا تھا جو ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اضلاع خیرپور اور شکارپور میں بہت سے اغوا ہونے والے افراد کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||