کراچی: کار جیکنگ میں اضافہ ہو گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہر روز اوسطاً انتیس گاڑیاں مالکوں کے قبضہ سے نکل کر چوروں اور ڈاکوؤں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کاریں چھیننے کے شوقین ڈاکو سفید کاریں اغوا کرنے کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ کراچی پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران لگ بھگ سوا پانچ ہزار گاڑیاں چوری ہوئی ہیں یا چھین لی گئیں۔ چھتنت جانے والی ان گاڑیوں میں اٹھارہ سو سے زائد کاریں اور سوا تین ہزار سے زیادہ موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ صرف جون کے مہینے میں نو سو انتالیس مالکان اپنی گاڑیوں سے محروم ہوئے۔ کراچی میں چھینی جانے یا چوری ہونے والی گاڑیوں کی برآمدگی کے لیے پولیس کا اینٹی کار لفٹنگ سیل کام کررہا ہے لیکن بمشکل چھتیس فیصد موٹر سائیکلیں اور اٹھاون فیصد کاریں واپس مل سکی ہیں۔ ڈاکوؤں کی سب سے زیادہ پسندیدہ سفید کاریں ہیں۔ دوسرا نمبر گرے یا سیاہی مائل کاروں کا ہے اور اس کے بعد گہرے نیلے رنگ کی کاریں ہیں۔ کار ساز کمپنیوں کے حساب سے دیکھا جائے تو چھینی جانے والی کاروں میں سوزوکی کاریں سرفہرست ہیں۔ ان کے بعد ٹویوٹا اور پھر ہونڈا کی کاریں آتی ہیں۔ چھینی جانے والی کاروں کے مالکان ڈکیتی سے اتنے پریشان نہیں ہوتے۔ انہیں یہ خیال زیادہ خوفزدہ رکھتا ہے کہ کہیں ان کی گاڑی دہشت گردی کی کسی واردات میں استعمال نہ ہو جائے۔ ایسی صورت میں پولیس کی روایتی تفتیش ، مقدمات کا سامنا اور پھر گاڑی کے حصول کے مراحل ایک طویل عذاب بن جاتے ہیں۔ چند ہفتے قبل بہادرآباد سے جو کار بندوق کی زد پر سہ پہر تین بجے چھینی گئی تھی ، وہ اسی شام ساڑھے پانچ بجے پی اے سی سی کے سامنے ایک خوفناک دھماکے کا سبب بنی۔ کلفٹن کے پل پر جس وین کے ذریعے کور کمانڈر کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا ، وہ بھی واردات سے چند گھنٹے قبل گلستان جوہر سے چھینی گئی تھی۔ تازہ اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شہر کے جن علاقوں میں سب سے زیادہ گاڑیاں چھینی جاتی ہیں ان میں گلشن اقبال ، صدر ، نارتھ ناظم آباد ، جمشید کوارٹرز اور کلفٹن شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||