جمہوریت پر بات کی: رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بات کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں مزید جمہوریت ہونی چاہئے جو دو ہزار سات میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا سبب بن سکیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت پر کھل کر اظہار کیا مگر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا امریکہ نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ان کی وردی اتارنے پر کوئی یقین دہانی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ جمہوریت کی ضرورت پر زور دیتا آیا ہے اور پاکستان سمیت اس کے تمام ملکوں سے مذاکرات کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ کونڈالیزا رائس نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے کئی برسوں میں ترقی کی ہے اور اس کا سہرا صدر جنرل پرویز مشرف، ان کے مشیروں اور پاکستانی عوام کے سر ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پچھلے چند برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کے سوال پر کہا کہ انہوں نے پاکستان کی دفاعی ضروریات کے علاوہ خطے میں دفاعی توازن کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جوہری نیٹ ورک سے امریکہ ہی نہیں ساری دنیا کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان اور امریکہ میں تعاون جاری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ڈاکٹر خان کا نیٹ ورک توڑا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ سب ممالک کو اس بات میں دلچسپی ہے کہ اس نیٹ ورک نے کیا کیا اور سب سے اہم یہ بات ہے کہ یہ سب کس طرح ہوا تاکہ اس جوہری بلیک مارکیٹ سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جائیں اور مستقبل میں ایسا کچھ نہ ہو۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات طویل المعیاد ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||