افغانستان: پارلیمانی انتخاب ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے اعلان کیا ہے کہ مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ستمبر تک مؤخر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ صدر حامد کرزئی نے کہا کہ انتخابات کا التویٰ تیکنیکی مسائل کی وجہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے دہائیوں پر محیط خانہ جنگی اور افراتفری کے بعد ملک کو ترقی کے راستے پر واپس لانے پر افغان عوام کی تعریف کی ہے اور انہیں دنیا کے لیے ایک مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پارلیمانی انتخابات اسی سال ہوں جو افغان عوام کی جمہوریت سے وابستگی کا ثبوت ہو گا۔ اس موقع پر حامد کرزئی نے وضاحت کی کہ انتخابات ستمبر میں ہوں گے اور انہیں یہ بات افغان الیکشن کمشن نے سربراہ نے بتائی ہے۔ ’انتخابات کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور اب الیکشن کمشن کے سربراہ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ ستمبر میں ہوں گے۔‘ امریکی وزیر خارجہ نے وعدہ کیا کہ امریکی افغانستان کی ترقی کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا کیونکہ سن انیس سو نواسی میں سویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے بعد امریکہ کی غیر حاضری کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت سے سبق سیکھا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ افغانستان کا پہلا دورہ ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کی تعمیر نو، منشیات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات چیت کرنا تھا۔ اپنے ایشیا کے دورے کے اگلے مراحل میں امریکی وزیر خارجہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین کا دورہ کریں گی۔ وہ اس سے پہلے بھارت اور پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||