BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانوں کے لیے محبت نہیں بدلی‘
جنوبی آئر لینڈ کی انیتا فلینیگن ، کوسوو کی شکیپ حبیبی اور فلپائن کے سفارتکار انجلیتو نایان
رہا ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ملازمین
افغانستان میں اغوا کئے گئے اقوام متحدہ کے تین ملازمین نے رہائی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

شمالی آئیر لینڈ کی انیتا فلینیگن نے صحافیوں کے سامنے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے اینجیلیتو نایان، شکیب حبیبی اور اپنی طرف سے ان کی رہائی کے لیے تمام مدد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم اپنی رہائی کی خوشی میں اپنے خاندان، دوستوں اور کابل میں اپنے ساتھیوں کو شامل کر کے نہایت مسرت محسوس کر رہے ہیں۔

جنوبی آئر لینڈ کی انیتا فلینیگن ، کوسوو کی شکیپ حبیبی اور فلپائن کے سفارتکار انجلیتو نایان کو کابل کی ایک سڑک سے 28 اکتوبر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہ تینوں نو نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے انتظامات میں مدد کے لیے افغانستان آئے تھے۔

انیتا فلینیگن نے لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ اپنی رہائی کے بعد ہمیں افغانستان کی مختلف شخصیات کے اُن بیانات کے بارے میں پتہ چلا جو انہوں نے ہماری مدد اور تعاون کے لیے جاری کیے ۔ اُنہوں نے اُن عام افغان خواتین اور حضرات کا بھی ذکر کیا جن میں سے کچھ نے اپنے آپ کو ان کی جگہ اغوا کاروں کی تحویل میں دینے کی پیشکش تک کی۔ مس فلینیگن نے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اغوا کے اِس بد ترین تجربہ نے بھی کارکنوں کی افغانستان اور اِس کے عوام کے لیے ان کی محبت کو نہیں بدلا ہے۔

بدھ کے دن افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اقوام متحدہ کے ان تین غیر ملکی کارکنوں سے ملاقات کی جنہیں منگل کو چار ہفتے یرغمال بنائے جانے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔

اس ملاقات میں یہ تینوں بظاہر پرسکون دکھائی دیتے تھے۔ حامد کرزئی نے ان کی رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اغوا کاروں کی مذمت کی اور بعد میں اِن تینوں کو تحائف پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کے اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو جو کہ ہماری افغان مہمان نوازی کی اقدار کے خلاف ہے‘۔

اس ملاقات کے دوران صحافی بھی وہاں موجود تھے تاہم انہیں اِن تین افراد سے سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ ابھی تک راز ہے کہ ان تینوں افراد کی رہائی کس طرح ممکن ہوئی۔ تاہم افغانستان کے وزیر داخلہ، علی احمد جلالی نے ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا اُنہیں کسی فوجی کاروائی کے زریعے رہا کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اغوا کاروں نے اِن تینوں کو کابل کے ایک علاقے میں خود ہی آزاد کر دیا اور یہ کہ اُن کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔

طالبان کی ایک ذیلی تنظیم، آرمی آف مسلمز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان تینوں کو افغان حکام کی طرف سے جیل میں قید انکے 24 ارکان کی رہائی کے بعد چھوڑا ہے۔ تاہم افغان حکام اُن کی رہائی کی تردید کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد