حامد کرزئی جیت گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حامد کرزئی افغانستان میں نو اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں 55.3 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پا گئے ہیں لیکن ان کی جیت کا سرکاری طور پر اعلان ہونے میں ابھی اور وقت لگے گا۔ حامد کرزئی کے حریف پونس قانونی نے شکست تسلیم کر لی ہے اور کہا ہے کہ وہ ووٹر کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔افغانستان میں ابھی تک چورانوے فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔ ماہرین کا ایک پینل انتخابات میں ہونے والی بدنظمیوں کی چھان بین ایک ہفتے میں مکمل کر لے گا جس کے بعد انتخابات کے حتمی نتائج کا سرکاری اعلان کیا جائے گا۔ حامد کرزئی کے اہم مدِمقابل اور سابق وزیر تعلیم یونس قانونی کو سترہ فیصد ووٹ ملے اور انہوں نے حامد کرزئی کی جیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ یونس قانونی کے ترجمان سید حامد نوری نے کہا کہ وہ قوم کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور اب تک ہونے والی گنتی کےمطابق حامد کرزئی صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں۔ حامد کرزئی کی انتخابی مہم کے ترجمان حامد علمی نے کہا ہے کہ حامد کرزئی کے سترہ لوگوں سے مقابلہ تھا لیکن افغان لوگوں نے حامد کرزئی کے ساتھ دیا انہوں نے کہا کہ وہ اب آرام کی نیند سو سکتے ہیں۔ توقعات کے برعکس افغانستان کے انتخابات میں تشدد کے واقعات بہت ہی کم ہوئے البتہ اتوار کو کابل کی سڑک پر ایک خود کش بم دھماکہ ہوا جس میں دو شہری ہلاک ہو گئے۔ طالبان نے دعوی کیا ہے کہ کابل میں ہونے والا انہوں نے کرایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||