BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 October, 2004, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بائیکاٹ ختم کرنے پر تیار
عالمی مبصرین نے ان انتخابات کو جمہوری اور مصفانہ قرار دیا ہے
عالمی مبصرین نے ان انتخابات کو جمہوری اور مصفانہ قرار دیا ہے
افغانستان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے کچھ امیدوار انتخابی عمل کا بائیکاٹ ختم کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں پہلے صدراتی انتخابات میں ہفتے کو پولنگ کے دوران سولہ میں سے پندرہ امیدواروں نے ووٹروں کے انگوٹھوں پر لگائی جانے والی سیاہی کے ناقص ہونے کی شکایت موصول ہونے کے بعد انتخابی عمل کا بائیکاٹ اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انتخابات لڑنے والے کئی امیدواروں کے نمائندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولنگ کے دوران ہونے والی مبینہ بد عنوانیوں کے سلسلے میں انتخابی حکام کی طرف سے کی جانےوالی تفتیش کو تسلیم کر لیں گے۔

ان انتخابات میں ایک کروڑ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

عالمی مبصرین نے ان انتخابات کی تصدیق کر دی ہے اور مبصرین کے سب سے بڑے گروپ نے ان کو ’منصفانہ اور جمہوری‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کو صدارتی امیدوار محمد محقق نے بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

محمد محقق نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن پولنگ کے دوران بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیق کرے۔

کابل میں بی بی سی کےنمائندے اینڈریو نارتھ نے اطلاع دی ہے کہ کئی دوسرے امیدوار بھی انتخابات کا بائیکاٹ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور مصالحتی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

حامد کرزئی نے مخالف امیدواروں کی طرف سے بائیکاٹ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لاکھوں ووٹروں کی خواہشات کو پامال کرنے کے مترداف ہے جنہوں نے خراب موسمی حالات اور دہشت گردی کے خطرے کی پروہ نہ کرتے ہوئے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم ’فری اینڈ فیئر الیکشن فاونڈیشن آف افغانستان‘ نے ان کہا ہے کہ یہ ’انتخابات بڑی حد تک جمہوری تھے۔‘

ایک اور تنظیم ’آرگانائزیشن آف سکیورٹی اینڈ کاپریشن ان یورپ‘ نے کہا کہ انتخابات کے دوران کچھ بدعنوانیاں ہوئی ہیں۔

تاہم اس تنظیم کے سربراہ رابرٹ بیری نے کہا کہ ان انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا کرزئی مخالف امیدواروں کا مطالبہ درست نہیں ہے اور اس سے افغان عوام کے حق میں نہیں ہے۔

اقوام متحدہ نے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ پڑنے پر اطمنان کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد