نو اکتوبر: افغانوں کا سرپرائز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو اکتوبر کا دن میری طرح بہت سے لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہو چکا ہوگا۔ اس لیے نہیں کہ اس دن افغانستان میں پہلے صدارتی انتخابات منعقد ہوئے بلکہ اس کا سبب افغان عوام کو وہ جوش و خروش تھا جو انہوں نے رائے دینے کے لیے دیکھایا۔ آٹھ تاریخ کی شام کابل میں موسم ایک دم سے تبدیل ہوگیا۔ تیز ہوا اور گرد کا ایسا طوفان آیا کہ دفتر کے کمرے میں بھی نتھنوں میں مٹی محسوس ہونے لگی۔ تیز ہوائیں رات بھر چلتی رہیں اور جب میں نو تاریخ کی صبح اٹھا توگیسٹ ہاؤس کے لان میں رکھی کرسیاں اوندھی پڑی تھیں۔ خنکی بھی بڑھ چکی تھی۔ صبح میں اپنی فلیک جیکٹ پہن کر قریبی پولنگ سینٹر کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ قریب ہی واقع مسجد یعقوب شاہ کے باہر لوگوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔ ووٹنگ کا آغاز صبح سات بجے ہوگیا تھا اور غالباً بعض لوگ نماز فجر کے بعد وہیں قطار بنا کر بیٹھ گئے تھے۔ اس کے بعد میں دوسرے کئی پولنگ مراکز پر گیا مگر سکیورٹی اقدامات کو دیکھتے ہوئے فلیک جیکٹ پہننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ سچ تو یہ کہ جب میں ستائیس ستمبر کو کابل پہنچا تو مجھے کوئی خاص انتخابی ہنگامہ نظر نہیں آیا۔ بس کہیں کہیں انتخابی پوسٹر لگے ہوئے نظر آئے۔ لیکن جس سے بھی بات ہوئی اسے نو تاریخ یاد تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا سہرا ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے صدارتی انتخابات کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لیے انتھک محنت کی۔ اور اس کا اثر آج ظاہر ہوا۔ مجھے چند پولنگ سینٹرز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ لوگ بڑے صبر سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ مردوں کے علاوہ خواتین بھی دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں پولنگ اسٹیشن کی طرف آتی نظر آئیں۔ جب انمٹ سیاہی کے مٹ جانے کا مسئلہ کھڑا ہوا تو طریقہ کے مطابق اعتراض کیا گیا۔ اعتراض کا نوٹس لیا گیا اور وقتی طور پر پولنگ روک دی گئی۔مگر کسی نے ہنگامہ کرنے کی کوشش نہیں۔ تاخیر کچھ زیادہ ہو تو کچھ لوگ جانے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دوسرے سینٹر جا رہے ہیں تاکہ اپنے فرض سے جلد سبکدوش ہو سکیں۔ بعض ووٹرز سے میں نے پوچھا کہ انہیں کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ بعض لوگوں نے حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ان کا جواب نفی میں تھا۔ افغانوں نے حوادث زمانہ کے اتنے تھپیڑے کھائے ہیں کہ اب شاید خوف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جس شخص سے بات کرو اس کا بھائی، باپ یا کوئی اور قریبی رشتہ دار یا تو گولی سے ہلاک ہوا ہے یا پھر بارودی سرنگوں کی وجہ سے معذور۔ سب ہی کے چہروں سے امید پھوٹ رہی تھی۔اپنے وطن کی قدر وطن سے دور رہ کر ہی ہوتی ہے اور پھر تیس لاکھ افغان تو تین دہائیوں سے وطن سے دور ہیں۔ یہ لوگ تعمیر وطن کے جذبے سے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان، ایران اور دوسرے ملکوں میں انتخابات دیکھے ہیں۔ قطار میں کھڑے ہوئے بصیر نے مجھے بتایا کہ وہ بہت عرصہ لاہور میں رہا ہے اور وہاں کے انتخابات دیکھے ہیں۔ ’مجھے آج بہت خوشی ہے کہ میں بھی ووٹ دینے کے قابل ہوگیا ہوں۔‘ ایک بوڑھی عورت اپنی جوان بہو کے ساتھ پولنگ بوتھ آئی ہوئی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں ووٹ دینا چاہتی ہیں۔ کہنے لگیں: ’اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔‘ ایک جانب عوام کا یہ رویہ اور دوسری جانب صدارتی امیدواروں کا رویہ جنہوں نے آج انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور باقاعدگیوں کا الزام لگایا حالانکہ ان انتخابات کی نگرانی افغان الیکشن کمیشن اور اقوام متحدہ مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں افعان عوام کو بیرونی اکسپوژر نے جو شعور دیا ہے اس سے ان کی نفسیات بدل گئی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ یہاں کے رہنماؤں نے ابھی حقیقت احوال کا ادراک نہیں کیا ہے۔ شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عوامی امنگیں کیا ہیں۔ ایک کامیاب سیاسی رہنما کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||