افغان انتخابات اور برادری کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں بظاہر پشتون، تاجک، ازبک یا شیعہ سنی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس موضوع پر نہ تو لوگ کھلے عام بات کرتے ہیں اور نہ ہی حالیہ انتخابی مہم میں سوائے ایک آدھ امیدوار کے کسی نے اس موضوع پر بات کی۔ عبدالطیف پدرام ایسے واحد امیدوار ہیں جو نسلاً تاجک ہیں اور کھل کر پشتون برتری ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ویسے بھی افغانستان ایک کثیرالنسلی معاشرہ ہے جہاں جغرافیائی اکائیوں میں تھوڑی یا زیادہ تعداد میں ہر زبان بولنے والے لوگ آباد ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ صدر اور نائب صدور کے لیے امیدواروں کی جو ٹیمیں تشکیل پائی ہیں وہ علاقائی اور نسلی اعتبار سے ایک قومی اتحاد کی عکاسی کرتی ہیں۔ عبوری صدر حامد کرزئی خود قندھار کے پشتون ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم میں وادئی پنجشیر کے مقتول ازبک رہنما احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود اور شیعہ ہزارہ کے رہنما عبدالکریم خلیلی کو شامل کیا ہے۔ کرزئی کو افغانستان میں صوفی سلسلہ قادریہ کے پیشوا سید احمد گیلانی، سابق شاہ ظاہر شاہ اور تاجک رہنما احمد ولی مسعود کی حمایت حاصل ہے۔
تاجک امیدوار: محمد یونس قانونی، عبدالستار سیرت، عبدالحفیظ منصور، غلام فاروق نجرابی، عبدالحسیب آرین (کرزئی کے حق میں دستبردار ہوگئے)، مسعودہ جلال، سید عبدالہادی اور عبدالطیف پدرام۔ پشتون امیدوار: حامد کرزئی، ہمایوں شاہ آصفی، میر محمد محفوظ ندائی، سید اسحاق گیلانی (کرزئی کے حق میں دستبردار)، احمد شاہ احمدزئی، وکیل منگل، عبدالہادی خلیلزئی اور محمد ابراہم رشید۔ حاجی محمد محقق شیعہ ہزارہ جبکہ جنرل عبدالرشید دوستم ازبک رہنما ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران عام لوگوں سے جب بات ہوئی تو کسی نے قانونی کو اپنا امیدوار کہا اور کسی نے کرزئی کو۔ جب ان کی پسند کا سبب پوچھا تو قانونی کا نام لینے والے کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ وہ تاجک ہیں اس لیے انہیں ووٹ دیں گے۔ بلکہ زیادہ تر کا جواب تھا کہ وہ مجاہد ہیں۔
لوگوں کی سوچ اپنی جگہ مگر قانونی اور کرزئی کی انتخابی ٹیموں کے ارکان کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ دونوں رہنما عوامی ذہنیت کو سمجھتے ہیں۔ افغانستان کے نئے آئین کے مطابق سنیچر کو پڑنے والے ووٹوں میں سے جو امیدوار پچاس فی صد سے زیادہ حاصل کرے گا وہ کرسئ صدارت کا حقدار ٹھہرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر حتمی نتائج کے، جو تیس اکتوبر کو متوقع ہیں، دو ہفتے بعد انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا اور اس میں جو امیدوار زیادہ ووٹ لے گا وہ کامیاب قرار پائے گا۔ سولہ امیدواروں میں سے اگرچہ کئی امیدواروں کو اپنی سیاسی قامت کا اندازہ ہوگا مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ اسے دوسروں پر جتلا کر نئی حکومت میں اپنے سیاسی بھاؤ کا تعین کروانا چاہتے ہیں۔ دیکھئے کہ صدیوں پر محیط قبائلی عصبیت، جہادی وابستگیاں اور امریکہ کا سایہ کیا رنگ لاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||