کرزئی مخالف امیدواروں کا بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدارتی انتخابات میں کرزئی کے مدمقابل امیدواروں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر حامد کرزئی کے مخالف امیدواروں نے یہ اعلان انتخابات میں استعمال ہونے والی ان مٹ سیاہی کے ناقص ہونے کی شکایت موصول ہونے کے بعد کیا گیا۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اٹھارہ میں سے پندرہ امیدواروں نے کیا جب کے دو امیدوار پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں۔ ایک صدارتی امیدوار عبدالستار سیرت نے کہا کہ انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بیان صدارتی امیدواروں کے ایک اجلاس کے بعد دیا جس میں تمام امیدواروں نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان پر دستخط کئے تھے۔ عبدالستار نے کہا کہ پولنگ کو روک دینا چاہیے اور ہم نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا جس کی بنیاد ووٹروں کے انگوٹھوں پر لگائی جانے والی ناقص سیاہی تھی جو آسانی سے مٹ رہی تھی۔ اس سے قبل افغانستان میں پر امن انداز میں پولنگ جاری رہی اور ملک کے کسی حصہ سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ کابل میں چند پولنگ اسٹیشوں پر ووٹروں کے انگوٹھوں پر لگائی جانے والی سیاہی کے بارے میں شکایات موصول ہونے کے بعد پولنگ کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد پولنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ افغان تاریخ کے پہلے انتخابات میں دارلحکومت کابل میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کئی پولنگ اسٹیشوں پر ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ ووٹروں کی قطاریں مردوں کے علاوہ خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر بھی دیکھی گئیں۔
ان انتخابات کے دوران ایک کروڑ سے زائد افغان ووٹروں کا اندراج کیا گیا تھا۔ پولنگ افغانستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور سہ پہر چار بجے تک جاری رہی۔ افغانستان کی تاریخ میں ہونے والے پہلے براہ راست انتخابات میں پہلا ووٹ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے لیے قائم کیے جانے والے ایک پولنگ سٹیشن میں ایک انیس سالہ افغان خاتون نے ڈالا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان کی آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ ہے جس میں سے افغان مہاجرین سمیت گیارہ ملین سے زیادہ افراد نے انتخابی فہرستوں میں اپنا اندراج کروایا ہے۔ ان میں اکتالیس اعشاریہ تین فیصد خواتین شامل ہیں۔ ملک بھر میں 4900 پولنگ سینٹرز قائم کیے گئے تھے جہاں 22000 پولنگ بوتھ موجود تھے۔ افغانستان میں 122500، پاکستان میں 11000 اور ایران میں 8000 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ پولنگ اسٹشنوں پر تعینات تھا۔
ووٹوں کی گنتی کے لیے ملک بھر میں آٹھ کاؤنٹنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جو کابل، قندھار، ہرات، قندوز، جلال آباد، گردیز، بامیان اور مزارشریف میں ہیں۔ ابتدائی نتائج کا اعلان گیارہ اکتوبر کو متوقع ہے جبکہ حتمی نتائج کا اعلان تیس اکتوبر کو ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||