BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 18:53 GMT 23:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان صدارتی انتخات کی حمایت

جلسہ
پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کا کوئٹہ میں جلسہ عام
پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں ایک بڑے جلسہ عام میں افغانستان کے صدارتی انتخابات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور حامد کرزئی کی پالیسیوں کی تعریف کی ہے۔

جماعت کے مرکزی چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ان مذہبی قوتوں پر سخت تنقید کی ہے جو افغانستان کے صدارتی انتخابات کی مخالفت کررہی ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ جیسے پاکستان میں مذہبی رہنما انتخابات میں حصہ لیتے ہیں ویسے ہی ملا عمر بھی ان انتخابات میں حصہ لے لیں۔

انتخابات کا فیصلہ کوئی ایک گروہ یا شخص کا نہیں ہے بلکہ افغانستان کے لویہ جرگہ میں ملک کی تمام بڑی شخصیات کی موجودگی میں ان انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا اس لویہ جرگہ میں صرف گلبدین حکمتیار نہیں تھے لیکن یہاں پاکستان میں مولوی اسے تسلیم نہیں کر رہے جو کہ حیران کن ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات نو اکتوبر کو ہوں گے ۔ پاکستان میں مقیم سات لاکھ پناہ گزین بھی ان انتخابات میں حصہ لیں گے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

یہاں نامعلوم افراد کی جانب سے ایسے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں ایسی دھمکیاں دی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یہ انتخابات غیر شرعی ہیں اور ان میں حصہ لینے والے افراد کو خطرناک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین نے ان دھمکیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سب درست نہیں ہے۔

محمود خان اچکزئی نے مجلس عمل کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف صدر کی وردی کی مخالفت کر رہے ہیں تو دوسری جانب انھیں آئین کی خلاف ورزی کرنے ایل ایف او اور سترہویں ترمیم کے حوالے سے حمایت کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو محکوم کہلوالی والی قوم پرست جماعتوں کی تنظیم پونم سترھویں ترمیم اور ایل ایف او کے حوالے سے اے آر ڈی اور دیگر تمام جماعتوں کی حمایت کے لیے تیار ہے اگر انھیں یہ یقین دہانی کرا دی جائے کہ پاکستان میں پانچ علیحدہ قومیں آباد ہیں اور انھیں ان کے تمام جائز حقوق فراہم کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اگر پشتونوں کو ان کے وسائل پر اختیار دے دیا جائے تو وہ یہاں یورپی ممالک میں آباد لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہم کسی کے محالف نہیں ہیں پنجاب کو ان کے وسائل نصیب ہوں بلوچوں کو ان کے اور سندھیوں سرائیکیوں کو ان کے اپنے وسائل نصیب ہوں، ہمیں ہمارے وسائل پر اختیار دے دیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد