اخروٹ آباد کے لوگوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ شہر کے قریب آبادی خروٹ آباد کے مقامی لوگوں نے اتوار کے روز سڑک بند کردی اور گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان کی میت کو سڑک درمیان رکھ دیا۔ ان لوگوں کا موقف تھا کہ پولیس نے نوجوان عبدالکریم کو بے گناہ مارا ہے اور سخت جسمانی تشدد کیا ہے۔ پولیس کو شبہہ تھا کہ ایک مکان میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سی آئی اے پولیس کی گاڑی پر حملہ کرنے والے افراد روپوش ہیں۔ عبدالکریم بھی وہیں موجود تھا جسے پولیس نے حملہ آور سمجھ کر اس کی ٹانگوں اور سینے پر گولیاں ماردیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عبد الکریم کی ٹانگ پر گولی تو پہلے مار دی گئی تھی، سینے پر گولی جسمانی تشدد کے بعد ماری گئی۔ کریم کے والد عبدالغفار نے بتایا ہے کہ اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ اس کا بیٹا دہشت گرد تھا جو کہ غلط ہے پھر بھی اسے گولی مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ مظاہرین نے تین گھنٹے تک روڈ بلاک رکھا اور پولیس کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف رپورٹ درج کی جائے، انھیں نوکری سے معطل کیا جائے اور واقعہ کی عدالتی انکوائری کی جائے۔ اس بارے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پرویز رفیع بھٹی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے مظاہرین کے موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسی صورتحال ہے تو عبدالکریم کنویں کے اندر کیوں چھپ گیا تھا۔ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ واقعہ کی عدالتی انکوائری کرائی جائے گی جو کہ ایک معمول ہے۔ مظاہرین کے مطالبے پر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد نے وحدت کالونی کے قریب ڈی ایس پی سی آئی اے نثار کاظمی کی گاڑی پر حملہ کیا تھا جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک اورڈی ایس پی سمیت تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آوروں کے تعاقب کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک نوجوان کو ہلاک ہو گیاتھا جس کے بارے میں پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نوجوان حملہ آور ہی تھا۔ ڈی آئی جی نے کہا تھا کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی ہی ایک کڑی ہے کیونکہ نثار کاظمی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تحقیقات کر رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||