کوئٹہ میں بے روزگاروں کا مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں خواتین اساتذہ نے پیر کے روز سے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے ان کا مطالبہ ہے کہ انھیں چالیس فیصد الاؤنس دیا جائے اور صوبے کے سکولوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ بے روزگار زرعی گریجوئٹس، انجینیئروں اور ویٹرنری ڈاکٹروں نے سیکریٹریٹ کے سامنے روزگار کے حصول کے لیے زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ مرد اساتذہ مزدور اور دیگر ملازمین حکومت کی توجہ اپنے طرف مبذول کرانے کے لیے اکثر مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ خواتین اساتذہ نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے وعدے اور دعوے سب جھوٹ ہیں۔ خواتین اساتذہ کی تنظیم کی عہدیدار میمونہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انھیں چالیسں فیصد الاؤنس نہیں دیا جا رہا جبکہ باقی صوبوں میں یہ الاؤنس اساتذہ کو دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر سکولوں میں بنیادی سہولیات میسر ہی نہیں ہیں۔ سکولوں میں پینے کے لیے پانی، بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ اور تختہ سیاہ نہیں ہیں جبکہ اساتذہ کو دور دراز علاقوں میں جانے کا الاؤنس بھی نہیں دیا جا رہا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں پیر کے روز بے روز گار زرعی گریجوئٹس انجینیئروں اور ویٹرنری ڈاکٹرز نے وزیر اعلی سیکرٹیریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ میں پولیس نے بے روز گاروں کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عرصہ دس سال سے انھیں روزگار فراہم نہیں کیا جا رہا۔ جس وجہ سے کئی نوجوان سرکاری ملازمت کے لیے متعین زیادہ سے زیادہ عمر کی حد پار کر چکے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کے شہر سوئی میں بھی بےروزگار نوجوان بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت نے کئی دفعہ بے روزگاروں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا لیکن کبھی اس وعدے کو پورا نہیں کیا جس سے لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||