BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 08 October, 2004, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان انتخابات: ’جہاد ضائع ہوگیا‘

ایک افغان لڑکی انتخابات کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟
ایک افغان لڑکی انتخابات کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟
افغانستان کے صدراتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں موجودہ عبوری صدر حامد کرزئی کی پوزیشن سب سے مضبوط تصور کی جا رہی ہے۔ ان امیدواروں میں یونس قانونی ایک ایسے امیدوار ہیں جو بعض علاقوں میں کرزئی کا سخت مقابلہ کریں گے کیونکہ انہیں شمالی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ شمالی اتحاد کی افغانستان کے شمالی صوبوں میں اکثریت ہے۔

میری عمر بیس سال ہے۔ میری پیدائش جنگوں کے زمانے میں ہوئی اور تربیت بھی لڑائیاں دیکھ کر اور ان کے بارے میں سن کر ہوئی۔

ملک میں پہلے مجاہدین آئے جو کہ اچھے لوگ تھے۔ انہوں نے جہاد کیا اور سپر پاور روس کو شکست دی لیکن روس کے ٹکڑے ہونے کے بعد مجاہدین آپس میں کرسی کے حصول کے لیے لڑ پڑے۔ انہوں نے جو جہاد اللہ کی راہ میں کیا تھا وہ بھی ایک طرح سے ضائع ہوگیا کیونکہ مختلف جہادی پارٹیوں نے اقتدار کی خاطر اپنے مسلمان بھائیوں کا ناحق خون بہایا۔ پھر طالبان آئے جنہوں نے اسلام کا نعرہ بلند کیا اور لوگوں پر ظلم و ستم ڈھائے۔ طالبان نے خواتین کے ساتھ جو زیادتیاں اور ناانصافیاں کیں وہ افغانستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔

جہاد ضائع ہوگیا
 روس کے ٹکڑے ہونے کے بعد مجاہدین آپس میں کرسی کے حصول کے لیے لڑ پڑے۔ انہوں نے جو جہاد اللہ کی راہ میں کیا تھا وہ بھی ایک طرح سے ضائع ہوگیا۔

حامد کرزئی کی حکومت نے خواتین کو جو مقام دیا وہ قابل قدر ہے۔ کابینہ میں خواتین وزراء کو شامل کیا گیا اور اب ایک خاتون صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے جو کہ ایک اچھی روایت بھی ہے۔

میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے ساتھ پشاور میں کام کرتی ہوں۔ گزشتہ چند روز میں کئی افغان مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا اور لوگوں کو ملکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی مہم میں حصہ لیا۔ اب تک ہم جتنے لوگوں سے ملیں ہیں سب ان انتخابات کو بڑے اچھی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے افغان مہاجرین بھی ایک تبدیلی چاہتے ہیں۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے اداروں نے پاکستان میں رہنے والے افغانوں کےلیے ووٹ ڈالنے کے انتظامات پاکستان میں کر کے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر ووٹنگ کے لیے ان کو یہاں سے افغانستان جانا پڑتا تو یہ لوگ کبھی بھی نہ جاتے اور ان کو زبردست مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑتا۔

میرا تعلق کابل سے ہے اور میری پیدائش بھی وہاں پر ہوئی ہے لیکن میں نے تعلیم پاکستان میں حاصل کی ہے۔ ہم گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ہمیں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کا انتظار ہے اگر یہ چناؤ کامیاب ہوا تو ہم نے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے اپنے وطن واپس لوٹنے کا پروگرام بنایا ہے۔

میں گزشتہ ماہ کابل گئی اور دیکھا کہ ہر چیز کی قمیت انتہائی زیادہ ہے۔ گھروں کے کرائے اتنے زیادہ ہیں کہ ایک چھوٹا سا کمرہ سو ڈالر ماہوار پر ملتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں بھی خاصی مہنگی ہے۔ یہ مہنگائی اور گرانی بھی جنگوں اور لڑائیوں کا تحفہ ہے۔


گل مینہ احمدزئی نے ان خیالات کا اظہار پشاور میں ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کے دوران کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد