کانسٹیبل: امریکن سنٹر پر ڈیوٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑھتی ہوئی دہشت گرد کارروائیوں کے پیشِ نظر اب غیر ملکی سفارتخانوں کے سامنے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ کراچی میں میریٹ ہوٹل اور امریکن سنٹر کے درمیان میں بنے بنکر میں تین سال سے تعینات پولیس والے راول خان نے ہماری ساتھی عروج جعفری کو بتایا کہ سکیورٹی کی ڈیوٹی اصل میں ہے کیسی۔ ’میرا نام راول خان ہے میں تین برس پہلے امریکن سنٹر کے باہر تیس منٹ کی ہنگامی ڈیوٹی کے بلایا گیا تھا اور اب تک اس بنکر پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہوں۔ روز گھارو سے یہاں ڈیوٹی کے لیے آتا ہوں اور رات کو گھارو واپس چلا جاتا ہوں۔ تنخواہ ماہانہ پانچ ہزار کے قریب ہے ہفتے میں چھ دن کی ڈیوٹی اور روٹی پانی جیب سے۔ ڈی ایس پی صاحب کہتے ہیں کہ اب سے روٹی پانی دوبارہ پولیس کے میس سے شروع ہو جائے گا پر آج دوپہر بھی جیب سے ہی کھایا تھا۔ ہم کُل پانچ سے سات لوگ اس پوسٹ پر کام کرتے ہیں اور کام ہے ہی کیا۔ یہاں بنکر میں بوریوں کے بیچ بندوق تانے بیٹھے رہو حالات زیادہ خراب ہوں تو گھر سے نکلتے ایک بار خیال آتا تو ہے کہ خبر نہیں واپسی ہو یا نہ۔ پر کیا کریں پولیس کی وردی پہنو تو پہلا اصول یہی کے جان ہتھیلی پر پہلے خود کا دفاع کرو پھر آگے اللہ مالک۔
کوئی مشکوک سامان یا بندہ نظر آئے تو فورا چوکس ہو جاتے ہیں اور بڑے صاحب کو ایک پانچ یا ون فائیو پر اطلاع کرتے ہیں۔ بڑے لوگ آتے ہیں جاتے ہیں پر ہمارا کیا بس چوکس ڈیوٹی کرو اور گھر جاؤ ۔ کچھ ہو جائے تو سرکار کہتی ہے کہ گھر والوں کو شاید ڈھائی یا شاید تین لاکھ روپے ملیں گے۔ تفصیل مجھے نہیں معلوم اور معلوم کر کے کرنا بھی کیا میں تو قبر میں ہوں گا بس گھر والوں کو مل جائے تو اچھا ہے۔ پچیس سال کی سروس تھی قریبا بیس پورے ہو رہے ہیں۔ آگے کیا بڑھتے کوئی سنے تو کچھ ہو۔ اب تین سال سےتو یہیں بیٹھیں ہیں دیکھو اور کتنے دن اسی بنکر میں فرئیر ہال کے سامنے گزارنے ہیں۔ اب ادھر بیٹھ کر بور کیا ہونا ایک طرح سے آرام کی ڈیوٹی ہے۔ بنکر سے بور نہیں ہوتا اور ہو جاؤں تو گانا نہیں گاتے بس گپ لگا لیتے ہیں۔ ہاں جب سڑک پر وی آئی پی کے لیے بندوق تانے پانچ گھنٹے پہلے سے کھڑے ہوتے تو مجھے بہت برا لگتا تھا ۔ ایک تو دھوپ اوپر سے بندوق اور یہ کالی خاکی وردی جی میں تو بڑا کچھ آتا تھا کہنے کو پر کیا کریں جی۔ ایک دن چھٹی ملتی ہے گھر والوں کے ساتھ وقت گزر جاتا ہے۔ چار بچے ہیں ایک گھر والی۔ تفریح کیا کرنی چھٹی کے دن اتنی تنخواہ اور تھکاوٹ میں گھر کی گاڑی چل جائے یہی بہت ہے۔ بس ٹن ٹنا ٹن ڈیوٹی کرتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||