BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 July, 2004, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: بادلوں کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا عمل
بادل ٹکڑوں میں کیوں تقسیم ہوتے ہیں؟
بادل ٹکڑوں میں کیوں تقسیم ہوتے ہیں؟
شکیل احمد بھارت کے شمالی شہر بنارس میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بارہویں تک سائنس کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اور بادلوں کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے عمل کے ذریعے وہ زلزلے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ وہ اپنی پیش گوئیاں حکومتِ ہند، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو بھیجتے رہتے ہیں۔ بعض سائنسدانوں نے ان کی پیش گوئیوں پر سنجیدگی سے غور بھی کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’انیس سو بیاسی میں ٹیلی ویژن نیٹ ورک دوردرشن نے بنارس میں اپنی نشریات مہیا کرنی شروع کردی تھیں۔ اس وقت زلزلے سے متعلق ایک پروگرام نشر کیا جارہا تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں اور پھر کیا تباہی چھوڑ جاتے ہیں۔ بعد میں آرمینیا میں آنیوالا زلزلہ میرے دل و دماغ پر چھا گیا۔

ایک دن شام کو میں اپنے گھر پر تھا۔ میں نے آسمان میں بھورے رنگ کے بادل کا ٹکڑا دیکھا جو پھٹ کر کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا لیکن وہ ٹکڑے الگ نہیں تھے۔ چونکہ میں نے ٹی وی پر پروگرام دیکھا تھا تو کسی وقت میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کہیں بادلوں کا اس طرح ٹوٹنا زلزلے کی پیش گوئی تو نہیں؟

ابھی دو دن ہی بیتے تھے کہ میں نے زلزلے کی خبر سنی۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ زلزلہ کہاں آیا تھا لیکن اس خبر نے میری اس فکر کو تقویت بخشی کہ بادلوں کا اس طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہوجانا زلزلہ آنے کی نشاندہی ہے۔ پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد انیس سو بیاسی سے لیکر انیس سو ترانوے تک میں بادلوں کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے عمل کا مطالعہ کرتا رہا اور میری پیش گوئی سچ ہونے لگی۔

پھر میں نے اپنی اس تھیوری کو سائنسدانوں سے منوانے کی کوشش میں لگ گیا۔ میں بنارس ہندو یونیورسیٹی میں جغرافیہ کے اساتذہ سے ملاقات کی اور انہوں نے مجھے مثبت سمت دکھائی۔ بادلوں کے ٹوٹنے میں میری دلچسپی جاری رہی۔ انیس سو اٹھانوے میں بھارت سرکار کی انسانی وسائل کی وزارت نے مجھے چھ بڑے بڑے سائنسدانوں سے روبرو کرایا جنہوں نے مشورہ دیا کہ میں بنارس ہندو یونیورسیٹی کے کسی سائنسدان کے تحت کام کروں۔

اور مجھے ساڑھے چار سو برسوں کا زلزلے سے متعلق ڈیٹا مہیا کرایا گیا۔ لیکن جب میں نے اپنی تھیوری کو عملی جامعہ پہنانے کی بات کی تو ان سائنسدانوں نے میری تھیوری سے انکار کردیا۔ لیکن بنارس کے ضلع مجسٹریٹ نے تیرہ دسمبر دو ہزار تین کو ایک حکم نامہ کے ذریعے مجھے ضلع ڈِزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا ممبر بنادیا۔

زلزلے کیسے آتے ہیں؟
جوں ہی زمین میں ہلچل شروع ہوتی ہے اس کے اثر کا عکس سورج کے نیچے ایک لیئر میں گھنی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو دیکھتے دیکھتے ہی بادلوں کا روپ لے لیتے ہیں۔ یہ الگ الگ شکلوں میں ہوتے ہیں۔ یے خاص قسم کے بادل زلزلے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ جس مقام پر زلزلہ آنا ہوتا ہے اس مقام پر اوپر آسمان میں بادلوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔

زلزلے آنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اندر ترنگ (لہر) پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ترنگیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اور کئی سطحوں میں ہوتی ہیں۔ انہی ترنگوں کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔ یہ ترنگیں چاند کی ایک، دو، سات، آٹھ، نو، بارہ، تیرہ، چودہ، ستائیس، اٹھائیس، انتیس اور تیس تاریخوں کو پیدا ہوتی ہیں۔ اس کےعلاوہ یہ چاند گرہن کے دن یا پانچ پہلے یا پانچ دن کے درمیان بھی پیدا ہوتی ہیں۔

قدرت کی جانب سے زمین کے باشندوں کیلئے یہ ترنگیں ایک نعمت ہیں۔ اگر زلزلے نہیں آتے تو نہ موسم میں بدلاؤ ہوتا اور نہ برف باری ہوتی، نہ بارش ہوتی، نہ سیلاب آتا، وغیرہ۔ جس طرح انسان کا دل ہمیشہ دھڑکتا رہتا ہے اور جسم کے انگوں کو خون پہنچتا رہتا ہے، بالکل اسی طرح زمین میں آنیوالی یہ ترنگیں فطری نظام کے لئے ایک نعمت ہیں۔’’

نوٹ: کیا آپ نے بھی اس طرح کائنات کے رموز کے بارے میں غور کیا ہے؟ کیا آپ سائنس میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ اگر آپ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھئے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ”آپ کی آواز” کا صفحہ قارئین کیلئے ہے اور اس پر شائع ہونیوالی آراء سے بی بی سی کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد