سینتیس انچ کا آدمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میرا نام عدیل احمد ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ میں اس وقت دنیا کا سب سے چھوٹے قد کا انسان ہوں۔ میری عمر چوبیس سال اور قد سیسنتیس انچ ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اب تک بھارتی شخص گل محمد دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے انسان تھے جن کا قد گینس بک آف ورلڈ دو ہزار چار کے مطابق بائیس انچ تھا اور اب وہ حیات نہیں ہیں‘۔ ’میں کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں آپریٹر کا کام کرتا ہوں۔ میں نے انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کمپیوٹر کورس کیا اور یہ جاب حاصل کی۔ کام کی جگہ پر اتنی مدد ضرور ملی ہے کہ میری ڈیسک میرے قد کے حساب سے رکھی گئی ہے۔ باقی دیگر کام میں اپنے گھر والوں اور دفتر کے بعض دوستوں کی مدد سے کر لیتا ہوں‘۔ ’مگر فرج سے آئیسکریم نکالنے یا پانی کی بوتل اتارنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کپڑے استری کرنے میں بھی دقت پیش آتی ہے۔ گھر میں ایسا کوئی خاص انتظام نہیں ہے کہ میں اپنے کام سہولت سے کر سکوں مگر گھر والوں کی مدد سے کام چل ہی جاتا ہے‘۔
’میں بس پر دفتر بڑی مشکل سے جاتا ہوں۔ اسی طرح انٹر تک تعلیم حاصل کرنا بھی آسان نہ تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ ہے ہی آنے جانے کا۔ پبلک ٹرانسپورٹ تو کسی بھیانک خواب سے کم نہیں۔ اسی لیے مجھے غصہ بہت آتا ہے مگر گھر والے مجھے مایوس نہیں ہو نے دیتے‘۔ ’فی الحال میری خواہش اور جدو جہد یہی ہے کہ کسی طرح ملکی سطح پر یہ دعویٰ ثابت کرسکوں کہ میرا قد اس وقت دنیا نہیں تو کم ازکم اس ملک میں تو ضرور سب سے کم ہے اور اس کے باوجود میں نارمل انسان کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں یہ دعویٰ کراچی کے مختلف کتب خانوں میں موجود عالمی ریکارڈ بکس کی چھان بین کے بعد ہی کر رہا ہوں‘۔ ’اگرچہ میرے گھر والے اور احباب تو میرا ساتھ دیتے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اصل سپورٹ حکومت سے ملنی چاہیے‘۔ ’میں گورنر سندھ عشرت العباد کے دفتر بھی گیا مگر رینجر گارڈز نے مجھے اندر جانے نہیں دیا۔ میں نےصدر مشرف اور سابق وزیر اعظم جمالی کو بھی اپنی تفصیل سےآگاہ کرنے کے لیے فیکس بھیجے تھے مگر کوئی جواب نہیں آیا‘۔ ’آج کل میں نے گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ کو بھی فیکس بھیجا ہوا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ چھ ہفتے میں جواب آئے گا۔ ابھی دو ہفتے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے میری ویڈیو بھی مانگی ہے۔ مگر ابھی تک میں بنوا نہیں سکا ہوں`۔
’مجھے گانا گانے، انٹر نیٹ پر سرچ کرنے اور کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے۔ میں ملک سے باہر جا کر تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں اور اسکے علاوہ پیر پگاڑا کی پارٹی جوائن کرنے کا بھی ارادہ کر رہا ہوں ہوں‘۔ ’ہاں مجھے ایک لڑکی بھی پسند تھی۔ مگر اس سے اظہار سے پہلے ہی اس کی شادی ہوگئی وہ تو نارمل قد کی تھی۔ ماں کہتی ہیں کہ بیٹا بھول جاؤ۔ مگر بھولا تو نہیں جا سکتا۔ اب تو جہاں ماں کہیں گی کر لیں گے۔ تیرے نام ہم نے کیا ہے جیون اپنا سارا صنم‘۔ نوٹ: عدیل احمد نے اپنی یہ گفتگو بی بی سی کراچی کے دفتر میں ہماری ساتھی عروج جعفری سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی کہانی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||