افغانوں کو نو اکتوبر کا انتظار ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو اکتوبر دوہزار چار کا انتظار نہ صرف افغان قوم کو ہے بلکہ عالمی برادری بھی اس دن بڑے غور سے یہاں کے انتخابی عمل اور اس کے نتائج کی منتظر ہے۔ اس وقت ایک خاتون سمیت سولہ امیدوار میدان میں ہیں۔ دو امیداواروں نے انتخابی مہم کے آخری روز صدر حامد کرزئی کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ لوگوں میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ووٹر رجسٹریشن کے لیے افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ ووٹنگ کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ پاکستان اور ایران میں بھی لاکھوں ووٹروں نے اندراج کروایا ہے۔ ایک افغان سلیم کے مطابق: ’نو اکتوبر کو ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ملک ترقی کرے گا۔۔۔‘ انتخابات کی اہمیت، اور پولنگ کے طریقہ کار کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت قائم جوائنٹ الیکٹرول مینجمنٹ بورڈ نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے تھے۔ اس کے علاوے کتابچے اور بیلٹ پیپر کی بڑی نقل تیار کرکے شہروں اور دیہاتوں میں تقسیم کی گئی۔ بورڈ کے ترجمان سعید اعظم کہتے ہیں ’لوگوں میں آگہی پیدا کرنے اور پولنگ سینٹرز تک بیلٹ باکس پہنچانے کے لیے گدھوں اور گھوڑوں سمیت تمام دستیاب ذرائع آمد و رفت استعمال کیے گئے ہیں۔‘
بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے ناموں اور انتخابی نشانوں کے علاوہ تصاویر بھی موجود ہیں۔ آج سے پورے تین برس پہلے یعنی سات اکتوبر دو ہزار ایک کو امریکی سالاری میں اتحادی فوج نے افغانستان پر حملوں کا آغاز کیا تھا۔ اور یہیں سے طالبان کی حکومت کا زوال ہوا۔ طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اور کوایلیشن فورس کی مدد سے حامد کرزئی ملک کے عبوری صدر قرار پائے۔ طالبان حکومت کے خاتمے میں افغانستان کے شمالی اتحاد نے بھی غیر ملکی فوج کا ساتھ دیا۔ افغانستان کو ایک جمہوری ملک بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابی کمیشن قائم ہوا۔ غیر ملکی ماہرین کی مدد سے ملک کا آئین تشکیل دیا گیا جس کی منظوری اس سال کے آغاز پر دسمبر جنوری میں ہونے والے لویا جرگہ سے لی گئی۔ اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے جون کا مہینہ مقرر تھا لیکن سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر پارلیمانی انتخابات کو دو ہزار پانچ تک ملتوی کر دیا گیا اور صدارتی انتخابات کے لیے نو اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔ اگرچہ تقریباً گیارہ ملین افغانوں نے رجسٹریشن کارڈ حاصل کیے ہیں، تاہم ووٹ ڈالنے کے لیے کتنے لوگ آئیں گے اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||